حیاتِ خالد — Page 661
حیات خالد 656 آخری ایام کیونکہ میرے لئے تو وہ والد کی جگہ تھے۔میرے بچوں کی نگہداشت، مکان کا فکر ، بچوں کے رشتوں کا خیال، مجھے جب اپنے دامن کا خیال آتا ہے تو اپنے آپ کو تہی دست پا تا ہوں کہ ان کی دعاؤں اور ان کی ہر دم کی کوشش کا میں تو کچھ بھی صلہ نہ دے سکا۔کوئی بھی خدمت نہ کر سکا۔اللہ تعالیٰ ہی اس پاک وجود کو اپنی دائی جنتوں میں بہتر اجر دے سکتا ہے۔اگر میرے پیارے بھائی جان کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو مجھے لکھیں تا میں اپنی بساط کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کروں۔0 ہانجل گیمبیا مغربی افریقہ سے اپنے خالو حضرت مولانا کی تعزیت کرتے ہوئے ڈاکٹر لئیق احمد صاحب انصاری واقف زندگی نے لکھا کہ کل کی بات لگتی ہے جب آپ نے مسکراتے ہوئے بہت سی دعاؤں کے ساتھ انہیں رخصت کیا تھا۔آپ اپنے شاگردوں کے لئے عظیم استاد اور بچوں کے لئے عظیم باپ تھے۔0 برمنگھم یو کے سے محترمہ بیگم صاحبہ حضرت مولانا کے ماموں زاد بھائی مکرم چوہدری عبدالحفیظ صاحب نے لکھا کہ حضرت مولانا ایک جید عالم اور اوصاف جمیلہ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔حضرت مولانا کی صاحبزادی محترمہ امتہ المجیب جاوید صاحبہ بیگم مکرم محمد اسلم صاحب 0 جاوید نے لندن سے اپنی والدہ ماجدہ کو لکھا کہ اپنے پیارے ابا جان سے محرومی کا یہ امتحان نہایت ہے۔اس خبر نے تو ہمیں تڑپا کر رکھ دیا۔ہم تو اپنے ابا جان کی شفقت سے محرومی پر نڈھال تھے ہی مگر لندن کی ساری جماعت نے اس صدمہ کو ہماری طرح محسوس کیا اور یہ سب کچھ ہمارے ابا جان کی دینی خدمات اور بے لوث قربانیوں کی وجہ سے تھا۔ایسے احباب بھی ہمارے ہاں تعزیت کے لئے آئے جن سے ہماری پہلے کوئی واقفیت نہ تھی۔آنے والے یہی کہتے کہ آپ کے تو جسمانی باپ تھے لیکن احمدیت کے رشتہ سے آپ ہمارے روحانی باپ تھے۔یورپ کے ملکوں جرمنی ، ہالینڈ اور ڈنمارک سے بھی بھائیوں بہنوں نے فون پر تعزیت کی۔0 اسی طرح حضرت مولانا کے داماد مکرم محمد اسلم صاحب جاوید نے لندن سے اپنی خوش دامن محترمہ کو لکھا کہ سب بہن بھائیوں اور آپ نے جس صبر اور ہمت سے اس عظیم صدمہ کو برداشت کیا وہ ہمارے پیارے ابا جان کی روح کی تسکین کا باعث ہوا ہوگا کیونکہ آپ راضی برضا ر ہنے کی نہ صرف ہمیں تلقین فرمایا کرتے تھے بلکہ آپ نے اپنی زندگی میں اس کی درخشند و مثال قائم فرمائی۔حضرت مولانا کی صاحبزادی محترمہ امتہ الباسط ایاز صاحبہ بیگم مکرم افتخار احمد صاحب ایاز 0