حیاتِ خالد — Page 617
حیات خالد 612 آخری ایام اظہار نہیں ہونے دیا کہ جارہے ہیں۔جمعہ کے دن خالہ جان کسی کے گھر گئی ہوئی تھیں اور میں پاس تھی تو بہت دیر مجھ سے باتیں کرتے رہے۔کئی واقعات سنائے۔پتا نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری باتیں ثابت ہونگیں۔اُسی دن شام کو مجھ سے عبد العزیز ڈار صاحب مرحوم کے متعلق مضمون بھی لکھوایا۔جو اُن کی وفات کے بعد الفضل میں شائع ہوا۔یہ ان کا آخری مضمون تھا۔اُس دن شام کو باہر غالبا کبڈی کا میچ تھا۔وہ بھی دیکھنے گئے اور اس موقع پر زعیم صاحب محلہ نے تصویر بھی لی جو آپ کی زندگی کی آخری تصویر ثابت ہوئی۔بڑی بے تکلفی کی تصویر ہے اور اس میں بالکل ٹھیک ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔آپ نے ہسپتال جانے سے پہلے حضور کی بیگم صاحبہ کے نام ان کی والدہ (حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ) کے بارہ میں تعزیتی محط لکھا۔یہ غالباً ان کی آخری تحریر تھی۔ہم اس دن تو خط دینے نہ جا سکے بعد میں گئے۔یہ تحریر محفوظ ہے۔ہفتہ کے دن صبح نماز کے بعد سیر کو بھی گئے۔آ کر کہنے لگے کہ آج راستہ میں دو تین دفعہ بیٹھ کر آرام کر کے سیر مکمل کی ہے تو خالہ جان کہنے لگیں کہ آپ نے اتنی لمبی سیر نہیں کرنی تھی۔اس دن دفتر بھی گئے۔شام کو نماز کے لئے بھی گئے اور اطفال سے کہنے لگے کہ تم نے کوئی دینی سوال پوچھنے ہیں تو پوچھ لو۔بڑے ماموں جان ( مکرم عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری۔ناقل ) کہنے لگے کہ اتنا زیادہ بول کر تھک جائیں گے مگر انہوں نے جواب دئیے۔آپ کی وفات کا بچوں پر بھی بڑا اثر ہے۔عطیہ، بشری اور ساجدہ تینوں اُٹھتے ہی ان سے ملنے جاتیں تھیں۔پھر سکول جاتے ہوئے بھی ان سے مل کر جاتیں۔مہینوں میں کبھی ایک بار دیر ہونے کی وجہ سے نہ جاسکتیں تو کہتے کہ آج ملنے نہیں آئیں۔وفات کے بعد بھی اپنی عادت کے مطابق مینوں ایک دو دن اسی طرح سیدھی بیٹھک کے سامنے پہنچ جاتی رہیں اور پھر ایک دم یاد آنے پر کھڑی ہو جاتیں۔خالہ جان نے دیکھا تو پیار کیا۔میرے اور بچیوں کے ساتھ تو انہوں نے اپنے بچوں سے بڑھ کر سلوک کیا اور مجھے ابا جان کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔آج ان کی وفات سے پرانا صدمہ پھر تازہ ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرے اور اپنے قرب میں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔آمین ان کی وفات کا سن کر ربوہ اور اندرون ملک دور و نزدیک سے لوگ آنے شروع ہو گئے اور شام تک اتنا ہجوم تھا کہ عورتیں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اندر بھی نہ آسکیں اور بڑے ماموں جان کے گھر تک