حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 605 of 923

حیاتِ خالد — Page 605

حیات خالد 600 آخری ایام کہ شکارب کریم سے ہی ملتی ہے۔ادویہ کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور ان کی تاثیرات بھی اسی کے حکم سے ظاہر ہوتی ہیں۔وَ الخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ربوہ پاکستان ۳ مئی ۱۹۷۷ء خاکسار خادم ابو العطاء جالندھری الفرقان مئی ۱۹۷۷ء حضرت مولانا کی زندگی کی آخری تحریرات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ان خوش قسمت خادمانِ دین میں شامل ہیں جن کو مولا کریم کی رحمت سے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ آپ زندگی کی آخری سانس تک خدمت دین کا فریضہ بجا لاتے رہے۔آپ کی وفات ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء کو رات ایک بجے کے قریب ہوئی۔( یعنی ۱۲۹ اور ۳۰ رمئی کی درمیانی رات کو ) اس وقت آپ ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن و وقف عارضی تھے، مجلس وقف جدید کے رکن تھے، امداد گندم کمیٹی کے صدر تھے۔رسالہ الفرقان کے ایڈیٹر تھے غرضیکہ بھر پور اور فعال خادم دین تھے۔مضامین کے اعتبار سے آپ کی آخری تحریر ایک فوت شدہ دوست مکرم عبدالعزیز ڈار صاحب کے بارے میں تھی جو آپ نے وفات سے چند دن قبل اپنی بہو مکرمہ قانتہ شاہدہ راشد صاحبہ اہلیہ مکرم عطاء الجيب راشد صاحب کو املاء کروائی اور جو آپ کی وفات کے چند دن بعد الفضل ربوہ میں شائع ہوئی۔ایک اور تحریر ۲۸ مئی ۱۹۷۷ء کی ہے جو مجلس وقف جدید کے طبع شدہ پیڈ پر سیکرٹری وقف جدید مکرم خدا بخش زیروی صاحب کی طرف سے بھیجی گئی ایک چٹھی پر آپ نے تحریر فرمائی۔۲۸ مئی کو بھجوائی گئی اس چٹھی کے ذریعے آپ کو اطلاع دی گئی کہ اتوار ۲۹ مئی کو دن کے دس بجے مجلس وقف جدید کا اجلاس ہو گا۔اس پر حضرت مولانا نے اپنے دستخط ثبت فرمائے اور لکھا۔انشاء اللہ۔اگر بخار نہ ہوا اس کے بعد ۲۹ رمئی ۱۹۷۷ء کی تحریر کردہ ایک چٹھی پر آپ کی تحریر ہے یہ چٹھی مکرم چوہدری غلام حیدر صاحب نے نظارت اصلاح و ارشاد ( تعلیم القرآن و وقف عارضی ) کے پیڈ پر لکھی اس میں لکھا تھا کہ گندم کی امداد کے فارم مختلف محلوں سے آچکے ہیں۔ان کے متعلق اجلاس کے بارے میں