حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 59 of 923

حیاتِ خالد — Page 59

حیات خالد بھائی پنجاب میں اول آئے۔62 ولادت، همچین اور تعلیم (الفضل ۲۲ جون ۱۹۷۷ ء صفحه ۴ ) محترم ڈاکٹر محمد احمد صاحب فرید آبادی (سرساوی) خلف حضرت ماسٹر احمد حسین صاحب فر آبادی لکھتے ہیں :- حضرت مولانا مرحوم سے اس خاکسار کو اس زمانے سے تعارف حاصل ہے جب میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں زیر تعلیم تھا۔ان دنوں حضرت مولوی صاحب مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہو کر جامعہ احمدیہ میں مولوی فاضل کی تیاری کر رہے تھے۔تحصیل علم کے زمانے سے ہی خاموش طبع ، خوش اخلاق، اور منفر د شخصیت کے مالک تھے۔قادیان میں ان دنوں بجلی ابھی نہیں آئی تھی۔لوگ تیل کے چراغ یا ڈنر کی ہری کین (لاتین) جلاتے تھے اور قادیان کی ٹاؤن کمیٹی بھی رات کو راستوں پر روشنی کیلئے چوکور شیشے کے ڈبوں میں مٹی کے تیل کے لیپ جلایا کرتی تھی۔میں نے رات کے وقت اس روشنی میں حضرت مولوی صاحب کو اکثر پڑھائی میں مشغول دیکھا تھا۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔حصول علم کے سوا کوئی مقصد ذہن میں نہیں تھا۔" حضرت المصلح الموعودؓ کو اللہ تعالی نے کیسی دور بین نظر اور کیسی مسیحانفس“ بنانے کا عزم زبر دست فراست عطا فرمائی تھی اس کا ایک زمانہ شاہد ہے۔حضور کو اللہ تعالیٰ نے گوہر قابل پر کھنے اور چنے کی کیسی زبر دست صلاحیت عطا فر مائی تھی اس کا ایک دلکش مظاہرہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے تعلق میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب حضرت مولانا مولوی فاضل کے امتحان میں یونیورسٹی میں اول آئے۔( یہ تاریخی واقعہ حضرت مولانا ہی کے الفاظ میں پڑھیں ) مولانا نے اپنے رسالہ الفرقان کے حضرت فضل عمر نمبر میں رقم فرمایا: - ۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی مذاہب عالم کی کانفرنس میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تھے۔انہی دنوں ہمارے مولوی فاضل کے امتحان کا نتیجہ شائع ہوا۔بفضلہ تعالیٰ میں اس امتحان میں یونیورسٹی میں اول رہا تھا۔اول آنے والے کو انگریزی تعلیم اور ریسرچ کے لئے یونیورسٹی کی طرف سے تمیں روپے ماہوار وظیفہ ملا کرتا تھا مگر اسے لاہور میں رہنا پڑتا تھا۔میں نے حضور کولندن خط لکھا اور اس بارے میں رہنمائی چاہی۔ان دنوں حضور کی ڈاک کے انچارج حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے۔مجھے حضرت حافظ صاحب کی طرف سے مخط ملا کہ حضور نے جو ا با فرمایا ہے کہ :-