حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 60 of 923

حیاتِ خالد — Page 60

حیات خالد وو 63 ولادت انگا پن اور تعلیم ' جسے ہم مسیحا نفس بنانا چاہتے ہیں اسے تمیں روپے میں گرفتار کرانے کیلئے تیار نہیں پھر حضور کی واپسی پر خاکسار حضور کے ارشاد سے مبلغین کلاس میں استاذنا المحترم حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس مزید تعلیم کیلئے داخل ہو گیا یہ دواڑھائی سال کا عرصہ بھی بہت پر کیف تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی روحانی مجالس میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوتی تھی اور حضرت حافظ صاحب ایسے مشفق استاد میسر تھے۔(الفرقان حضرت فضل عمرنمبر صفحہ ۱۷-۱۸) یادر ہے کہ جیسا کہ پچھلے صفحات میں لکھا گیا ہے کہ جب ۱۹۱۶ء میں حضرت مولانا کے والد محترم آپ کو تعلیم کی غرض سے قادیان لائے تو حضرت مولانا لکھتے ہیں :- میرے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب بسلسلہ فوجی ملازمت ان دنوں فرانس میں تھے۔انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ تم قا دیان ہائی سکول میں پڑھو جملہ اخرجات کا میں ذمہ وار ہوں گا۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ء صفحه ۴۱ ) اس پیشکش کے مطابق حضرت مولانا کو مدرسہ احمدیہ کی بجائے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کیا جا سکتا تھا جہاں دنیاوی تعلیم کی غرض سے طلباء داخل ہوتے تھے لیکن جب حضرت فضل عمر کی خدمت میں معاملہ پیش ہوا تو (مولانا کے الفاظ میں ) حضور نے جھٹ فرمایا کہ اسے مدرسہ احمدیہ میں داخل کر دیا جائے“۔(الفرقان فضل عمر نمبر صفحہ ۱۷) گویا سید نا حضرت فضل عمر کی خدا داد بصیرت نے پہلے دن ہی سے بھانپ لیا تھا کہ یہ نوجوان کچھ کر کے دکھانے والا ہے اسے دنیا داری میں ڈال کر ضائع نہ کیا جائے۔آہ! آج کتنے ہی لائق اور ذہین نوجوان ایسے ہوتے ہیں جو اپنے والدین اور سر پرستوں کے غلط فیصلہ کے باعث دنیا داری کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ہر ذہین بچے کے والدین اسے افسر انجینئر یا اعلیٰ دنیاوی مناصب کا حامل بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح سے بہت سے ذہین دماغ اور قابل وجود دین کی خدمت سے محروم رہ کر عمر جاوداں پانے کی بجائے چند روزہ دنیا کی دوڑ میں منہمک ہو جاتے ہیں۔یو نیورسٹیوں اور بورڈوں کے امتحانات میں امتیاز حاصل کرنے والے طلبہ کے والدین کو چند لمحے رک کر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اعلیٰ