حیاتِ خالد — Page 583
حیات خالد 577 ذاتی حالات میں بھی اکثر اس کی تقریر رکھی جاتی تھی۔محنت اور پوری تیاری سے تقریر کرتی تھی۔در حقیقت اس کی زندگی کے یہی پہلو تھے جن کی وجہ سے مجھے اس سے غیر معمولی پیار تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اگر چہ میرے بیٹے عزیز عطاء الرحمن طاہر مولوی فاضل نے بھی زندگی وقف کی اور دینی تعلیم بھی حاصل کی مگر بعض۔روکوں کی وجہ سے اسے سرکاری ملازمت میں جانا پڑا اور دوسرے بیٹے ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اسلام واحمد بیت کی خدمت میں قلم و زبان سے جہاد میں ابھی تک عزیزہ امتہ اللہ سب سے بڑھ کر میری آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ( عزیزہ کی وفات پر میرے دوسرے بڑے بیٹے عزیز عطاء الکریم شاہد بی۔اے سلمہ اللہ نے بھی خدمت اسلام کیلئے زندگی وقف کر دی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔آمین ) عزیزہ بیماری کے باوجود خدمت دین کے کام کو جاری رکھتی رہی اس لئے مجھے اس سے بہت پیار تھا اسے بھی مجھ سے بے حد محبت تھی۔آخری بیماری میں اس نے اس امر کو گوارا نہ کیا کہ میں کسی وجہ سے بھی اس سے دور جاؤں۔میرا قادیان کا ویز اختم ہو رہا تھا بیماری کی شدت کے باعث میرے دل میں بار بار تحریک پیدا ہوئی کہ دارالامان میں درویش حضرات کی معیت میں بھی عزیزہ کی شفایابی کیلئے درد مندانہ التجا کی جائے مگر جب ذکر کیا تو عزیزہ نے کہا کہ ابا جان! آپ میرے پاس سے دور نہ جائیں۔عزیزہ نے سینتیس (۳۷) سال کی زندگی تقوی اور پر ہیز گاری سے بسر کی۔اسے رویائے صادقہ ہوتی تھیں اس کی خواہیں اکثر واضح طور پر پوری ہوتی تھیں وہ چند ماہ سے زیادہ بیمار تھی بعض عورتوں نے اسے بتایا تھا کہ اس کی بیماری آپریشن سے دور ہو جائے گی۔میں آخر اگست ۱۹۶۰ء میں ایک رات کراچی میں اپنے بیٹے عطاء الرحمن طاہر کے ہاں تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اپریشن کے بعد عزیز و امتہ اللہ کی وفات ہوگئی ہے اور وہ ہمارے پاس سے چلی گئی ہے صبح میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں نے امتہ اللہ کے بارے میں ایک تشویشناک خواب دیکھا ہے اس نے بتایا کہ ابا جان ! میں تو دیکھ چکا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اس سال کے آخر یک آپا کی زندگی ہے۔میں جب ربوہ پہنچا تو عزیزہ کی طبیعت زیادہ کمزور تھی ہم اسے لاہور لے گئے ایک جرمن ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد علاج تجویز کر دیا اور کہا کہ آپریشن کی ضرورت نہیں میں نے خواب کی بناء پر اس کو بہتر سمجھا۔مگر جب ستمبر کے آخری عشرہ میں تکلیف بہت بڑھ گئی تو پھر عزیزہ کے دل میں اپریشن کا خیال زور پکڑ گیا میں نے ہزار تدبیر سے اسے ٹالنا چاہا مگر معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر مبرم تھی۔لاہور لے جانے کیلئے سب سامان بسہولت میسر آگئے آخر ۲۳ ستمبر بروز جمعه شفاء میڈیکو لاہور کے مالک چود ہری عبدالسمیع صاحب کی کمال مہربانی سے ان کی