حیاتِ خالد — Page 552
(۹) تاریخی و تربیتی مقالے (۱۰) ذہنی ترقی کے لئے معمے اور انعامی سوالات (11) ملکی خبروں کا خلاصہ اور معلومات عامہ (۱۲) مجلس تشخیز کے ممبروں کا تبادلہ خیالات نوٹ :- آپ کی رائے اور تنقید بھی شکریہ کے ساتھ قبول ہوگی۔ایک اہم بات یہ کہ اس پروگرام کے شروع میں بسم اللهِ مَجْرنَهَا وَمُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِیم لکھا گیا تھا۔آپ نے مبارک ابتداء کے نام سے جو اداریہ تحریر فرمایا تھا اس میں بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- اسلام کے ہونہار نونہالو! آج ہم رسالہ تشحید الا ذہان کے دور جدید کا آغاز اس مقصد کے پیش نظر کر رہے ہیں کہ آپ اپنے اس پندرہ روزہ رسالے کے ذریعہ ذہنی طور پر دینی اور علمی ترقی حاصل کریں اور ابھی سے تحریر کے واسطہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچا ئیں اور کل کو اسلام کے کامیاب سپاہی نہیں ! اس مفید رسالے کا شاندار دور اول ۱۹۰۶ ء میں شروع ہوا تھا جبکہ اس رسالہ کے ایڈیٹر ہمارے موجودہ امام ایدہ اللہ بصرہ ( یعنی حضرت مصلح موعودؓ۔ناقل ) تھے۔آج نصف صدی گزرنے کے بعد ۱۹۵۷ء میں اس کا دور جدید احمدی بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی خاطر شروع ہو رہا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے کمال شفقت سے پسند فرمایا کہ احمدی بچوں اور بچیوں کے رسالہ کا وہی نام رکھا جائے جو ۱۹۰۶ء میں حضرت بانی سلسلہ علیہ السلام نے اس رسالہ کا نام تجویز فرمایا تھا جسے حضرت محمود ایدہ اللہ الودود نے شروع کیا تھا۔میں نے دور جدید کے آغاز کے موقع پر حضور سے مبارک ابتداء کے طور پر ایک فقر و تحریر فرمانے کے لئے عرض کیا تھا۔حضور نے ذیل کا دعائیہ کلمہ تحریر فرمایا :- اللہ تعالیٰ اس پرانے رسالے کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شروع ہوا تھا پھر زندگی شروع کرنے کی توفیق دے“۔اس مبارک پیغام کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ اور صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور دیگر کئی علماء کے پیغامات بھی شامل کئے گئے تھے۔