حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 544 of 923

حیاتِ خالد — Page 544

حیات خالد 537 متفرق دینی خدمات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اللہ تعالیٰ نے صحافتی میدان میں جماعت احمدیہ کی بہت نمایاں اور یادگار خدمات کی توفیق دی۔آپ احمد یہ انٹر میٹیکل پر لیس ایسوسی ایشن اور بعد ازاں مجلس صحافیان ربوہ کے صدر رہے۔آپ نے مختلف رسائل کا آغاز یا احیاء فرما یا مثلاً :- ○ قیام فلسطین کے دوران جنوری ۱۹۳۵ء میں آپ نے ماہوار رسالہ ”البشارة الاسلاميه الاحمدیہ کا آغاز کیا جو بعد ازاں البشری کہلایا اور اب تک کہا بیر سے با قاعدہ شائع ہوتا ہے۔بلا دعر بیہ سے واپسی کے بعد آپ نے قادیان سے رسالہ فرقان جاری کیا جس کا ابھی 0 ذکر ہو چکا ہے۔پاکستان آنے کے بعد آپ نے ستمبر ۱۹۵۱ء میں احمد نگر ( نز در بوہ ) سے رسالہ الفرقان کا آغاز کیا۔یہ رسالہ مئی ۱۹۷۷ء تک جاری رہا۔اس کا تفصیلی ذکر ہو چکا ہے۔0 جون ۱۹۵۷ء کو آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی اجازت سے بچوں کے لئے ایک رسالہ تفخیذ الا ذہان کا احیاء کیا۔بعد ازاں یہ مجلس خدام الاحمدیہ کی زیر نگرانی اطفال الاحمدیہ کا ترجمان بن گیا اور باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔اس کا تفصیلی ذکر آگے آرہا ہے۔O اکتوبر ۱۹۵۷ء میں حضرت مولانا نے ربوہ سے البشرکی نام سے ایک عربی رسالہ جاری کر کے کہا پیر والے رسالہ کا احیاء کیا۔آپ نے پرنسپل جامعہ احمد یہ جناب سید داؤ د احمد صاحب کو پیشکش کی کہ اگر البشری پسند ہو تو جا معہ احمدیہ اسے بخوبی اپنا سکتا ہے۔آخر جامعہ ہمارا ہے اور ہم جامعہ کئے"۔سید نا حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں جب یہ تجویز پیش ہوئی تو حضور نے بخوشی اس بات کی اجازت دی۔اس طرح وسط جنوری ۱۹۵۹ء سے یہ رسالہ پر نیل صاحب جامعہ احمدیہ کی نگرانی میں آگیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو اللہ تعالیٰ نے متعدد پہلوؤں سے تدریسی خدمات جماعت احمدیہ کی خدمات بجالانے کی توفیق فرمائی۔مناظروں اور فلسطین میں میدان تبلیغ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔اس کے بعد کی زندگی میں حضرت مولانا نے انتظامی اور تدریسی میدان میں نمایاں ترین خدمات انجام دیں۔اس دور میں جامعہ احمدیہ اور جامعہ المبشرین کے ہر دو ادارے جماعت احمدیہ میں مبلغین و مربیان سلسلہ کی تیاری کے ادارے تھے۔ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے واقفین زندگی نے دنیا بھر میں زبردست روحانی انقلاب پیدا کرنے کا تاریخی فریضہ انجام دیا اور خدا تعالی کے فضل وکرم سے آج بھی