حیاتِ خالد — Page 543
حیات خالد 536 متفرق دینی خدمات ایڈیٹر مقرر ہوئے اور اس کا آخری شمارہ اگست ۱۹۴۷ء میں شائع ہوا۔یہ رسالہ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا تھا اور کثرت سے غیر مبائعین اور بہائیوں کو مفت بھیجا جاتا تھا۔حکیم عبداللطیف صاحب منشی فاضل دونوں ادوار میں اس کے طابع و ناشر کے فرائض انجام دیتے رہے۔رسالہ فرقان کے پہلے پرچہ بابت ماہ جنوری ۱۹۴۲ء کے صفحہ ۳ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا درج ذیل ارشاد شائع ہوا۔بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيم اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر میری تحریک پر بعض نوجوانوں نے لاہور کی انجمن احمد یہ اشاعت اسلام کی طرف سے جو ہماری نسبت اور سلسلہ احمدیہ جس کا مرکز قادیان ہے کے عقائد کی نسبت بدظنیاں پھیلائی جاتی ہیں ان کا جواب دینے کیلئے ایک ماہواری رسالہ کا اجراء کیا ہے۔میں اس رسالہ کی پہلی اشاعت کیلئے یہ سطور بطور تعارف لکھ کر دے رہا ہوں۔اور صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی نیتوں کو نیک کر کے کام کرو۔کبر ریاہ اور نخوت سے آزاد ہو کر کام کرو۔خدا تعالیٰ پر توکل کر کے کام کرو۔اس صورت میں خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تم اس جنگ سے فاتح لوٹو گے۔خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے۔خاکسار مرزا محمود احمد ۲۲ - فتح ۱۳۲۰ هش ۲۲ دسمبر ۱۹۴۱ء اسی طرح ایک بار حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:- ایک رسالہ فرقان نکلا ہے۔اس کی تمہید بھی میں نے لکھی ہے۔جو پیغامیوں کے زہر کے ازالہ کیلئے جاری کیا گیا ہے۔اس کی خریداری کی طرف بھی میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں"۔( تقریر جلسه سالانه ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۱ء بحواله الفضل ۹/جنوری ۱۹۴۲ء) الفضل ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۱ء میں درج ہے کہ اس رسالہ کا پہلا پرچہ چونتیس صفحہ تجم کا نہایت عمدہ لکھائی چھپائی اور اعلیٰ کا غذ پر شائع ہو گیا ہے۔اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا کی صحافتی خدمات پر ایک مختصر صحافتی خدمات کا نوٹ درج کر دیا جائے۔