حیاتِ خالد — Page 52
حیات خالد 55 ولادت، بچپن اور تعلیم تھا کہ ہم چند طالب علم حضرت قاضی اکمل صاحب کے دفتر میں جاتے اور وہاں پر ان کے مطالعہ سے فارغ اخبارات اٹھا اٹھا کر پڑھا کرتے تھے۔یہ اخبارات آریوں ، عیسائیوں اور دوسرے مسلمانوں کے ہوتے تھے۔حضرت قاضی صاحب مرحوم ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی فرماتے تھے“۔قار مکین کتاب کو اشتیاق ہو گا کہ حضرت مولانا کے ان دو تاریخی مضامین کے بارہ میں کچھ اور جان سکیں جن سے آپ کے قلمی جہاد کا آغاز ہوا۔خود مولانا کے اپنے الفاظ میں ہر دو مضامین کا مختصر تعارف پیش ہے۔د میں نے مدرسہ احمدیہ کی تیسری جماعت میں سب سے پہلا پہلا مضمون ”اسلام اور تلوار " مضمون ”اسلام اور تلوار کے عنوان سے لکھا۔مضمون تو میں نے لکھ لیا مگر مجھے حجاب محسوس ہو رہا تھا کہ میں کس طرح کسی اخبار میں یہ مضمون دوں؟ آخر جرات کر کے میں نماز فجر کیلئے جاتے ہوئے مضمون ساتھ لے گیا اور مسجد اقصیٰ قادیان میں نماز فجر ادا کرنے کے فورا بعد میں نے منہ اندھیرے ہی محترم جناب سردار محمد یوسف صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار نور کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ان کا مکان اور دفتر ان دنوں مسجد اقصیٰ کے ساتھ جانب جنوب گلی کے دوسری جانب ہوا کرتا تھا۔سردی کے دن تھے میں نے چادر سے منہ چھپایا ہوا تھا۔محترم ایڈیٹر صاحب نے بالا خانہ سے پوچھا کون ہے اور کیا کام ہے؟ میں نے نام بتائے بغیر کہا کہ کچھ کا غذ دینے ہیں۔انہوں نے اوپر سے ٹوکری لٹکائی میں نے جھٹ اس میں مضمون رکھا اور بورڈنگ کی طرف بھاگ گیا۔اخبار نور ہفتہ وار اخبار تھا۔اگلے ہفتہ جب اخبار نکلا تو اس میں میرا مضمون ”اسلام اور تلوار" بطور افتتاحیہ میرے نام سے شائع ہوا۔محترم ایڈیٹر صاحب نے اس پر نوٹ دیتے ہوئے لکھا کہ میں اس طالبعلم کے مضمون کو بغیر اصلاح کئے بطور اداریہ شائع کر رہا ہوں مجھے یقین ہے کہ اگر عزیز نے مشق جاری رکھی تو ایک دن اچھے مضمون نگار بن جائیں گے۔میں نے جب ان کے ریمارکس پڑھے تو میرا حوصلہ بہت بڑھ گیا"۔پھر دوسرا مضمون میں نے ”فرشتوں کی ہستی کا ثبوت“ کے عنوان سے لکھا جو میرا دوسرا مضمون ہفت روزہ الحکم میں اس وقت کے ایڈیٹر محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے بڑی محبت سے شائع کیا۔اس کے بعد پھر تو اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی بھی خاص توفیق عطا فرمائی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اس جگہ یہ ذکر کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس ابتداء میں بھی حضرت قاضی اکمل صاحب کی