حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 528 of 923

حیاتِ خالد — Page 528

حیات خالد 519 مضمون نویسی تھے اور اس سال انشاء اللہ العزیز ہمارے موجود امام حضرت خلیفہ اسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دیں گے۔یہ درس سارے قرآن مجید کے درسوں کا آخری معراج ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام سامعین اپنے امام کی اقتداء میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ اور پوری تفرعات سے اجتماعی دعا کرتے ہیں۔یہ روحانی طور پر ایک زریں موقعہ ہوتا ہے جو دلوں کو دھو کر نئی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ایک مزید بات ہے کہ اس موقعہ پر ربوہ کے ہزار ہا باشندوں کے علاوہ بہت سے احباب دوسرے شہروں سے بھی شامل ہوتے ہیں۔ان سب کی دعاؤں کا مرکزی نقطہ غلبہ اسلام اور قرآن مجید کی اشاعت کے لئے دردمندانہ التجا ہوتی ہے۔میں نے چاہا تھا کہ ربوہ کے رمضان المبارک میں ایمان افروز منظر کی ایک جھلک قارئین تک پہنچاؤں مگر مجھے اعتراف ہے کہ میں اس میں قاصر رہا ہوں اور بیچ یہ ہے کہ روحانی زندگی کے بہت سے پہلو الفاظ کی حد بندیوں میں آہی نہیں سکتے۔بھلا آپ ہی بتائیں کہ میں اس کیفیت کو کس طرح الفاظ میں بیان کروں جو دنیا جہاں سے اس نرالے منظر کو دیکھ کر قلب مومن میں پیدا ہوتی ہے کہ ربوہ کی مساجد میں ڈیڑھ سو کے قریب مرد و زن کپڑوں کے خیمے بنائے دھونی رمائے پڑے ہیں۔دن رات اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہیں۔قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔تشبیح وتحمید میں ہمہ تن مصروف ہیں۔تضرع و زاری سے نوافل ادا کرتے ہیں۔اکیلی مسجد مبارک میں سوا سو معتکف ہیں۔ان میں جوان بھی ہیں بوڑھے بھی ہیں۔پاکستانی بھی ہیں اور بعض دوسرے ممالک کے بھی ہیں۔ربوہ کے بھی ہیں اور دوسرے شہروں سے بھی آئے ہوئے ہیں بعض تھوڑے پڑھے ہوئے بھی ہیں اور بعض دنیوی اور دینی علوم کے اعتبار سے بڑے بڑے عالم ہیں۔کتنا پر کیف منظر ہے کہ سارے کے سارے قرآن پاک ہاتھوں میں تھا مے تلاوت کر رہے ہیں۔دل بریاں ہیں اور آنکھیں گریاں ہیں۔تھک جاتے ہیں تو تسبیح وتحمید کرتے ہوئے صحن مسجد میں ذرا سا چل پھر لیتے ہیں۔آدھی رات کے بعد ذرا ان کے خیموں کے باہر کان دھریں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اہلتی ہنڈیا کی طرح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر پکھل رہے ہیں۔سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہ اپنی، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں اور اپنے بچوں، بچیوں کی حاجات کی حاجت روائی کے لئے بھی بارگاہ احدیت میں دست بدعا ہوتے ہیں۔اپنے سب ایسے احباب کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں جنہوں نے ان سے دعا کے لئے کہا ہوتا ہے وہ اپنے رب سے تنہائی میں درد بھرے دل سے عرض پرداز ہوتے ہیں کہ اے کریم خدا!! تیرے ان بندوں اور بندیوں نے حسن ظن کر کے تیرے ان گہنگار بندوں سے دعا کے لئے درخواست