حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 525 of 923

حیاتِ خالد — Page 525

حیات خالد 516 مضمون نویسی کر اسلام کی اشاعت کے جہاد میں شامل ہو جائیں۔ان نوافل سے فارغ ہو کر ربوہ کے احمدی مرد اور احمدی عورتیں اسلامی حکم کے مطابق سحری کھاتے ہیں سحری ختم ہوتے ہی مسجد مبارک کے پر شوکت لاؤڈ سپیکر سے موذن خدائے بزرگ و برتر کی کبریائی کا اعلان کرتے ہوئے اذان شروع کرتا ہے۔یہ آواز ربوہ کی میلوں میں پھیلی ہوئی کھلی آبادی کے ہر گوشے میں سنی جاتی ہے۔یہ آواز نہایت پر کیف ہوتی ہے اور جب مؤذن زیادہ سریلی اور درد بھری آواز والا ہوتا ہے تو اس کا اثر اور بھی گہرا ہوتا ہے۔میں نے دنیا کے بہت سے شہروں میں اذان سنی ہے اور صبح کی اذان خاص طور پر توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔اذان میں اسلام کی صداقت کا نہایت زبر دست اعلان ہوتا ہے۔ذرا غور تو کریں کہ چودہ سو برس پیشتر جب کہ مکرمہ میں ہمارے سید و مولا (با باءِ نَا هُوَ وَ أُمَّهَاتِنَا ) صلی اللہ علیہ وسلم نے یکہ و تنہا پہلے دن اذان کی روح یعنی توحید کا اعلان کیا تھا تو قریش مکہ کیا کہتے تھے؟ اور پھر جب مدینہ معظمہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے اذان کے معروف کلمات میں نماز کے لئے ندا کا حکم فرمایا تو کا فرکس طرح جنسی اور مخول کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَ الْادَيْتُمُ إِلَى الصَّلوةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبا (المائده : ۵۹) اگر آج وہ لوگ دنیا میں آجائیں اور سنیں اور دیکھیں کہ اذان کے کلمات مشرق اور مغرب میں گونج رہے ہیں۔ہر بلندی اور پستی سے خدا تعالیٰ کی کبریائی اور محمد مصطفی میہ کی رسالت و بزرگی کا اعلان ہو رہا ہے تو ان لوگوں کی کیا حالت ہو؟ پرانے مردوں کو جانے دیجئے آج کے غیر مسلموں کے لئے بھی یہ سوچنے والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کے ماتحت کس طرح رسول مقبول ﷺ کو غیر معمولی مقبولیت بخشی ہے اور کس طرح مدینہ منورہ سے بلند کی جانے والی اذان دنیا بھر کی مسجدوں کے بلند میناروں سے دہرائی جارہی ہے عالم تصور میں یوں نظر آتا ہے کہ سیدنا بلال کی روح ہر مؤذن سے کہہ رہی ہے کہ میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے جن الفاظ میں مجھے حبشی نژاد سے محبت کے ساتھ فرمایا تھا کہ بلال یوں اذان دو اور میں نے اسلام کے ضعف کے وقت اللہ اکبر کہ کر خدا کی کبریائی کا اعلان کیا تھا تم آج زمین کے چپہ چہر پر، اسلامی شہروں میں، مسلمانوں کی بڑی بڑی بستیوں میں بلکہ اسلامی سلطنتوں کے بڑے بڑے مراکز میں اذان تو انہی الفاظ میں کہتے ہو اور لاؤڈ سپیکروں اور ریڈیائی لہروں کے ذریعہ اسے دور و نز دیک پہنچا ر ہے ہو مگر کیا تم یہ بھی سوچتے ہو کہ تمہاری ان اذانوں میں روح بلالی بھی موجود ہے؟ تم خوش الحان سہی تمہارے الفاظ زور دار سہی مگر یہ بھی تو غور کرو کہ میری اذان اور تمہاری اذانوں میں کتنا فرق ہے؟ تم الفاظ اذان کہہ کر