حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 526 of 923

حیاتِ خالد — Page 526

حیات خالد 517 مضمون نویسی تسلی پالیتے ہو اور گھر میں بیٹھ رہتے ہو۔مگر محمد رسول اللہ اللہ نے میرے ذریعے جو اذان دلائی تھی اس نے تو صحابہ کو بے چین اور بے قرار کر دیا تھا اور جب تک وہ لوگ اپنے گھر بار، اپنے عزیز واقارب، اپنی جائیدادیں اور اپنے اموال قربان کر کے اکناف عالم میں توحید کے پیغام کو لے کر پہنچ نہ گئے اور انہوں نے شرک کے قلعوں کو مسمار نہ کر دیا انہیں آرام نہ آیا وہ چین سے نہ بیٹھے۔سوچو اور پھر سوچو کہ کیا تمہاری اذانوں کے پیچھے یہ جذبہ موجود ہے کیا ان کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے؟ عالم تصور میں حضرت بلال کے اس سوال پر میری روح پکار اٹھی کہ باقی دنیا کا تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن محمد مصطفی من کے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے دیوانوں کو جس اسلامی اذان کے دہرانے کا ارشاد فرمایا ہے وہ اسی جذبہ سے معمور ہے وہ پوری طرح روح بلالی پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ قادیان اور ر بود کی اذانوں کا اثر ہے کہ بوڑھے احمدی اپنے نونہالوں کی زندگیاں راہ خدا میں وقف کرتے ہیں نو جوان بصد شوق و شکر اس راہ میں قربان ہونے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں احمدی مرد اپنی پسینہ کی کمائی اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پیش کر رہے ہیں احمدی عورتیں اپنی جائدادیں اور اپنے عزیز زیورات تک اللہ تعالیٰ کی خاطر نچھاور کر رہی ہیں، اس روح کا نتیجہ ہے کہ ا مشرق و مغرب میں اسلام کا نام بلند ہو رہا ہے۔کفرستانوں میں کچی اذانیں دی جارہی ہیں، مسجد میں بن رہی ہیں۔قرآن مجید کے تراجم شائع ہو رہے ہیں۔پادریوں، پنڈتوں اور دہریہ سائنسدانوں اور فلاسفروں کے اسلام پر اعتراضات کے دندان شکن اور تشفی بخش جواب دئے جارہے ہیں۔احمدی نوجوان اسلام کے جھنڈے اٹھائے دنیا کے ملکوں میں پھیل رہے ہیں۔یہ خوش آئند اور نہایت شاندار مستقبل کا آغاز ہے اور نہایت دلکش آغاز ہے اس نظارہ سے روح بلال مطمئن نظر آتی ہے کہ اذان کا اصل مقصود حاصل ہو رہا ہے اور شیریں شمر لنگ رہے ہیں۔عالم تصور میں میں دور نکل گیا۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ ربوہ کا رمضان المبارک جاندار اور حقیقی۔طور پر ثمر دار رمضان ہوتا ہے۔فجر کی اذان سن کر لوگ رواں دواں مسجدوں کی طرف چل پڑتے ہیں اور ذکر الہی میں مشغول ہو جاتے ہیں نماز کے بعد ہر مسجد میں قرآن مجید، احادیث نبویہ اور دیگر با برکت کتب کے درس ہوتے ہیں اور ہر مسجد ایک بقعہ نور اور علم و عرفان کی درسگاہ ہوتی ہے بالخصوص مرکزی مسجد مبارک کی تو بالکل نرالی شان ہوتی ہے جہاں خود خلیفہ وقت ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پانچوں نمازیں پڑھاتے ہیں۔ان نمازوں کا روحانی لطف غیر معمولی ہوتا ہے خشوع و خضوع کی خاص حالت