حیاتِ خالد — Page 524
حیات خالد 515 مضمون نویسی کی غیر معمولی برکات کا انتشار ربوہ کے درو دیوار پر نظر آتا ہے وہ ایک بے مثال ایمان افروز منظر ہے اور انسان کے رگ و پے میں حرارت ایمان کی زبر دست لہر دوڑانے کا موجب ہے۔عید کا چاند دیکھنے کیلئے تو ہر جگہ اہتمام کیا جاتا ہے ہر چھوٹے بڑے کی نگاہ افق آسمان پر لگی ہوتی ہے مگر رمضان کا چاند دیکھنے کیلئے جن مقامات میں خاص اہتمام کیا گیا ہے ان میں سے ایک ہماری پیاری بہتی ربوہ بھی ہے۔دوست بڑے شوق سے مغرب کی نماز سے پہلے اور نماز کے بعد آسمان کی طرف توجہ سے دیکھتے ہیں۔چاند نظر آنے پر ایک بشاشت چہروں پر دوڑ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو مسرت سے چاند دیکھ لینے کی خبر دیتے ہیں۔گھروں میں فورا چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور نئے پروگرام جاری ہو جاتے ہیں۔عشاء کی نماز کے بعد ربوہ کی دس بارہ مساجد میں قرآن مجید سننے کے لئے تراویح کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور حفاظ بڑی محبت سے خدائے قدوس کا زندہ کلام لوگوں کو سناتے ہیں۔ربوہ کے سننے والوں میں ایک بڑی کثرت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کلام اللہ کے معنی جانتے اور اس کے مطالب سے آگاہ ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے قرآن مجید ایک کھلی کتاب ہے اور اس کی قرآت ان کے لئے آب حیات کا حکم رکھتی ہے۔نعمتوں اور الہی فضلوں کے ذکر کو سن کر وہ مجسم شکر بن جاتے ہیں اور آیات وعید و عذاب کے پڑھے جانے پر ان کے دل لرز جاتے ہیں۔اوامر کو سن کر ان پر عمل پیرا ہونے کا عزم قوت پکڑتا ہے اور نواہی کے ذکر پر ان سے بچنے کی پختہ نیت کرتے ہیں۔پس یہ تراویح اس شہر میں اور ہی رنگ رکھتی ہیں صرف الفاظ ہی نہیں سنے جاتے جن کی رسائی صرف کانوں تک ہو بلکہ اس کے معانی اور مطالب دلوں پر وارد ہوتے ہیں۔تراویح کے علاوہ راتوں کا کچھ ابتدائی حصہ گھروں میں ذکر خدا و یا در سول ملے میں گزرتا ہے پھر آرام کیا جاتا ہے بہت سے شب بیدار بزرگ تو الله آدھی رات کے بعد فوراہی تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ کا منظر پیش کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک اکثریت آخری حصہ شب میں اپنے رب کے حضور گریہ کناں سنائی دیتی ہے گھروں کی روشنیاں بتارہی ہیں کہ اہل خانہ تہجد کی ادائیگی اور روزہ کی تیاری میں مصروف ہیں اس وقت بھی کچھ لوگ مساجد میں جا کر تنہائی میں نوافل تجد ادا کرتے ہیں ہر جگہ دعاؤں پر زور ہے آہ و بکا جاری ہے۔سب کی دعاؤں کا مرکزی نقطہ یہ ہوتا ہے کہ اے خدا! تیری تو حید جلد زمین پر پھیل جائے اور ساری دنیا تیرے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اور سب کو تیرے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت نصیب ہوتا وہ سارے کے سارے اسلام کی فوج میں شامل ہو