حیاتِ خالد — Page 523
حیات خالد 514 مضمون نویسی شعاعوں سے غار جگمگ جگمگ کر رہا تھا اور وہ مٹی پر اپنی جبین نیاز جھکائے سجدہ میں پڑا تھا۔اس کا سینہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح شعلے مار رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے بارش برس رہی تھی۔اور اس کی زبان بارگا واحدیت میں یوں گویا تھی۔” خدایا تیرے بندے تیرے آستانہ سے بھٹک گئے انہیں ہدایت دے۔خدایا تیری مخلوق گمراہ ہوگئی اسے سیدھا راستہ دکھا۔خدایا ! میری قوم ، میرے بھائی ، ہلاکت کے منہ میں جارہے ہیں انہیں بچا انہیں توحید پر قائم کر۔آیا یہ تو میرا آقانبیوں کا سردار حضرت عبداللہ کا جگر گوشہ اور حضرت آمنہ کا لخت جگر پیارا اور سب پیاروں سے زیادہ پیارا "محمد" ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔اے خدا تو اس پر بے حد درود و سلام نازل الفضل قادیان ۲۸ نومبر ۱۹۳۶ء) فرما۔آمین ایک اور مضمون حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے مضامین میں سے ایک اور یادگار مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔یہ مضمون ربوہ کے رمضان المبارک کا ایک حسین نقشہ پیش کرتا ہے۔اس مضمون کو حضرت مولانا کے یادگار مضامین میں سے قرار دیا جاتا ہے۔بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّرَبِّ غَفُورٌ ایمان افروز زندگی کا ایک منظر رمضان المبارک اسلامی زندگی کے لئے موسم بہار کا حکم رکھتا ہے۔جہاں کہیں مسلمان ہوتے ہیں اس مبارک مہینہ کے چاند کے نظر آنے کے ساتھ ہی ان کی زندگی میں ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔وہ فوراً تیار ہو جاتے ہیں کہ اس مقدس ماہ کی برکات سے استفادہ کریں۔دن کو روزہ رکھیں اور راتوں کو ذکر الہی میں بسر کریں۔یوں تو ایک سچے مسلمان کے لئے اسلام کے احکام کی رُو سے سارے دن اور ساری راتیں ہی اللہ کی یاد میں گزارنی چاہئیں اور گزرتی ہیں مگر رمضان ہر مسلمان کے لئے نئی تر و تازگی اور جدید روحانی قوت کا مکمل سامان لے کر آتا ہے۔رمضان مسلمانوں کے ہر شہر کیلئے خاص خیر و برکت کا موجب ہوتا ہے مگر رمضان کی جوشان جماعت احمدیہ کے مرکز میں ہوتی ہے اور جس طرح سے رمضان