حیاتِ خالد — Page 522
حیات خالد 513 مضمون نویسی ڈالی اب یہ زمین وہ پرانی زمین نہ تھی۔بلکہ ایک نئی زمین تھی۔یہ خاکدان تیرہ بقعہ نور بن رہا تھا۔میں بتوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور ظالم و سفاک تاجداروں کی حکومتوں کے پاش پاش ہونے کی آواز سنتا تھا۔میں مظلوموں اور یتیموں کے چہروں پر تبسم دیکھتا تھا۔میں بیواؤں اور بیکس و بے نوا عورتوں کو شادیانے بجاتے اور خوشی کے گیت گاتے سنتا تھا جو ر و استبداد کی حکومت کا ٹاٹ الٹا جا رہا تھا اور شیطان اپنی بساط کو لپیٹ رہا تھا۔میری مسرت اور فرحت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے لیکن مجھے اطمینان نہ تھا تسکین نہ تھی کیونکہ ابھی تک میری نظر اس پاک وجود پر نہ پڑی تھی۔جو اس ساری تبدیلی کا پیدا کرنے والا تھا۔میں اس کی جستجو میں بے کل اور اس کی تلاش میں دیوانہ ہو رہا تھا۔میں بار بار اپنی نظر مشرق و مغرب میں دوڑاتا تھا۔مجھے وہ وجود گنجان آبادیوں میں سرسبز باغوں میں اونچے محلات میں شاداب وادیوں میں اور بہتی ندیوں کے کناروں پر نظر نہ آیا۔میں نے اسے شاہی مجالس میں علمی سوسائٹیوں میں، فلسفہ و حکمت کے درس کے حلقوں میں، مندروں ، گرجوں اور شوالوں میں نہ پایا۔میں نے اس کی دلدوز آہ کا جو ابھی تک برابر بلند ہو رہی تھی تبع کیا۔میں دبے پاؤں اس دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی آواز کے پیچھے گیا۔جوں جوں میں قریب ہوتا گیا۔اس آد میں دل سوزی اور اس آواز میں رقت بڑھتی گئی۔میں نے دروزہ والی عورت کے کراہنے کی آواز سنی ہے۔میں نے اپنے اکلوتے بیٹے پر نوحہ کرنے والی بیوہ ماں کو چلاتے سنا ہے۔میں نے آتش فشاں پہاڑ کی آتش فشانی مشاہدہ کی ہے۔مگر بخدا اس آو میں اس بکاء میں ، اس نوحہ میں اور اس چیخ و پکار میں جو درد، دل سوزی ، رقت اور جاذبیت تھی وہ بے مثال تھی۔میں نے دیکھا کہ میں ایک ریگستانی ملک میں ہوں۔آباد شہر سے دور سنگلاخ زمین میں پہاڑ کے ایک تنہا غار کے کنارے پر ہوں۔غار کیا ہے، سانپوں اور بچھوؤں کی کچھا رہے۔اس کے قریب جاتے ہوئے دل ڈرتا ہے۔دماغ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔مگر کیا کروں وہ آواز جس نے زمین و آسمان کو ہلا دیا جس نے ساری دنیا کے نوشتہ تقدیر کو بدل دیا۔جس نے قوموں کی کشتی کو ہلاکت کے منجدھار سے نکال کر ساحل نجات پر پہنچا دیا وہ آواز اسی غار سے بلند ہو رہی ہے۔اور اسی وحشت زدہ غار کے اندر وہ وجود مقیم ہے جس نے فرزندان آدم کو ابدی ہلاکت سے بچا کر دائی راحت کا وارث بنایا ہے۔غار کے اردگرد پاؤں کے نشان نہیں۔ہوا سے مٹ چکے ہیں۔نا معلوم کتنے دنوں سے خدا کا یہ مقدس اپنی پیاری اور وفادار بیوی اپنے ننھے ننھے بچوں کو چھوڑ کر اس ویرانہ میں بیٹھا ہے۔اس کی عمر چالیس برس اور اس کے جسمانی قومی پورے شباب پر ہیں۔میں نے جرات کر کے غار میں جھانکا۔اس مقدس کی پاکیزگی کی