حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 518 of 923

حیاتِ خالد — Page 518

حیات خالد 509 م مضمون نویسی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میری مضمون نویسی کی ابتدا کیونکر ہوئی۔اسی سلسلہ میں اخبارات کے مطالعہ کا ذکر کیا ہے۔ان مخالف اخبارات کے پڑھنے سے طبیعت میں جواب دینے کے لئے جوش پیدا ہوتا گیا۔۱۹۱۹ء کے شروع کی بات ہے سردی کا موسم تھا کہ میں نے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں چپکے چپکے ایک مضمون اسلام اور تلوار کے عنوان سے لکھا۔دوسرے صبح جب میں مسجد اقصیٰ قادیان میں طلبہ کے ساتھ نماز فجر ادا کرنے کے لئے گیا تو مضمون ساتھ لیتا گیا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں محترم ایڈیٹر صاحب اخبار نور کے مکان پر پہنچا جو مسجد اقصیٰ کے ساتھ ہی تھا۔ابھی منہ اندھیرا ہی تھا۔محترم سردار محمد یوسف صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار نور ابھی نماز پڑھ کر اپنے بالا خانہ میں پہنچے ہی تھے۔میں نے دوسرا دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے بالا خانہ کی کھڑکی سے نیچے جھانکا اور پوچھا کہ کون ہیں! میں نے کہا کہ یہ کا غذ دینا چاہتا ہوں اس وقت میں نے سردی اور حجاب کے باعث چادر سے منہ ڈھانپا ہوا تھا۔انہوں نے اوپر سے رسی کے ذریعہ ٹوکری نیچے پھینک دی اور میں نے اپنا مضمون اس ٹوکری میں رکھ کر جلدی سے بورڈنگ کی راہ لی۔اگلے ہفتے جب ہفت روزہ اخبار نور شائع ہوا تو اس کے ایڈیٹوریل کے طور پر میرا مضمون چھپا ہوا تھا۔اور اوپر محترم جناب ایڈیٹر صاحب کا یہ نوٹ تھا کہ میں اس مضمون کو بغیر اصلاح کے شائع کرتا ہوں۔میرا نام درج کر کے انہوں نے پر امید لہجہ میں لکھا تھا کہ اگر اس نے مشق جاری رکھی تو انشاء اللہ کسی دن بہترین مضمون نگار بنیں گے۔میرے لئے مضمون کا شائع ہو جانا ہی اچنبھے کی بات تھی اور پھر اس حوصلہ افزائی کے ساتھ شائع ہونے سے تو میری ہمت بلند ہوگئی میں ایک دیہاتی طالب علم تھا اور مجھے مجالس میں حجاب محسوس ہوا کرتا تھا۔مضمون لکھنے کا جوش تو پیدا ہوا مگر اسے شائع کراتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی تھی۔چنانچہ جب مضمون شائع ہو گیا اور مدرسہ میں اخبار آیا تو طلبہ چہ میگوئیاں کرتے ، بعض خوشی کا اظہار کرتے اور اس ایڈیشن میں بعض مضامین پر ان بزرگوں اور دوستوں کے نام درج نہیں ہو سکے جن کے قلم اور دماغ سے وہ نکلے ہوئے ہیں۔ذیل میں ان کی بھی وضاحت بطور کفارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔مولوی اللہ دتا صاحب فاضل جالندھری۔اصل میں پاکٹ بک ہذا کی ابتدائی بنیاد میں نے انہی کی تھی نوٹ بک ہی پر رکھی تھی جو اضافہ در اضافہ ہوتے ہوتے اس قدر ضخامت تک پہنچ گئی ہے۔