حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 517 of 923

حیاتِ خالد — Page 517

حیات خالد 508 مضمون نویسی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔مدرسہ میں داخلہ کی ایک مستقل ایمان افروز داستان ہے جس کے بیان کا یہ موقعہ نہیں۔مدرسہ احمدیہ کی روحانی فضا اور علمی ترقی کا ماحول نہایت سازگار تھا۔دن رات علمی چہ چتے رہتے تھے۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کا تشخیز اور ریویو کا دفتر اخبارات کے مطالعہ کے لئے آزاد ادارہ تھا اور مدرسہ احمدیہ کے قریب تھا۔ہم لوگ فارغ اوقات میں وہاں چلے جاتے تھے اور جو اخبارات ہمیں میسر آتے تھے ہم انہیں پڑہتے تھے۔ان اخبارات میں آریوں کے اخبارات بھی ہوتے تھے۔دہریوں کے بعض اخبارات بھی ہوتے تھے۔ہم ابھی بچے تھے ، نوجوان تھے۔ہر قسم کے اخبارات پڑھتے تھے اور جتنا سمجھ آتا اسے محفوظ کر لیتے۔ایک دو سالوں کے بعد یہ حالت ہوگئی کہ مخالفین کے اخبارات میں اعتراضات پڑھ کر طبیعت میں جوش پیدا ہوتا۔اور جب چند روز تک اپنے اخبارات و رسائل میں ان کا جواب نظر نہ آتا تو ہم جوش سے حضرت قاضی صاحب کو کہتے کہ اس کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا وہ اپنے خاص انداز میں کہتے کہ آپ خود کیوں جواب نہیں لکھتے ہم یہ سن کر جھینپ جاتے اور کجھتے کہ محترم قاضی صاحب ہم سے مذاق کرتے ہیں۔ہم کہاں مضمون لکھ سکتے ہیں تا ہم دل میں یہ آرز و گد گدیاں لیتی کہ کاش ہمیں لکھنا آ جائے تو ہم ان مخالفین کو بھر پور جواب دیا کریں اور ان کا کوئی اعتراض تشنہ جواب نہ چھوڑیں۔اسی دوران اس طرف توجہ پیدا ہوئی کہ ہم جن اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے ایسی باتوں اور جوابوں کو نوٹ کر لینا چاہئے جواب یا آئندہ کام آنے والے ہوں۔چنانچہ میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا۔اور ایک نوٹ بک بنانا شروع کر دی۔ادھر مدرسہ میں ان دنوں ہمارے فاضل اساتذہ با قاعدہ علمی اور دینی لیکچر دیتے اور حوالے نوٹ کرواتے تھے، میں وہ حوالے بھی باقاعدہ نوٹ بک کی صورت میں جمع کرتا رہا۔اس جگہ یہ ذکر کر نے میں حرج نہیں کہ میری اس طالب علمی کی نوٹ بک کو لے کر شروع میں احمد یہ کتاب گھر قادیان کے مینجر نے احمدیہ پاکٹ بک کے نام سے طبع کرا دیا تھا اور یہی پاکٹ بک بعد ازاں بڑھ کر اخویم مکرم ملک عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم کی مرتبہ تبلیغی پاکٹ بک کی شکل میں شائع ہوتی رہی ہے لے ملاحظہ ہو چیش لفظ ایڈیشن پنجم۔احمدیہ تبلیغی پاکٹ بک مطبوعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۳۴ء شائع کننده: فخر الدین مانی مهتهم کتاب گھر قادیان۔اس میں درج ہے۔میں بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کروں گا اگر میں اس جگہ اپنی اس کوتاہی کا کھلے بندوں اعتراف نہ کروں کہ