حیاتِ خالد — Page 516
حیات خالد 507 مضمون نویسی مضمون نویسی کی ابتدا حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی زندگی کا اہم حصہ ان کی مضمون نویسی تھی۔یہ سلسلہ 1919 ء سے شروع ہوا اور آپ کی وفات تک جاری رہا۔آپ کا آخری مضمون الفضل میں آپ کی وفات کے چند دن بعد شائع ہوا اس طرح سے مسلسل یہ سلسلہ ۵۸ سال تک جاری رہا۔کتاب ہذا کی ابتدا میں حضرت مولانا صاحب نے اپنی مضمون نویسی کی ابتدا کا ذکر کیا ہے۔اس باب میں جہاں ہم حضرت مولانا کے جماعتی رسائل میں مطبوعہ مضامین کی ایک نامکمل فہرست درج کر رہے وہاں ابتدا میں حضرت مولانا کا ۱۹۷۰ ء کا لکھا ہوا ایک مضمون بھی پیش ہے جس میں حضرت مولانا نے اپنی مضمون نویسی کے آغاز کا ذکر فرمایا۔حضرت مولانا ” میری مضمون نویسی کی ابتدا کے عنوان سے ماہنامہ خالد میں شائع شدہ اس مضمون میں لکھتے ہیں۔محترم ایڈیٹر صاحب رسالہ خالد نے مجھ سے مضمون لکھنے کے لئے کہا ہے ”خالد“ نوجوانوں کا رسالہ ہے اور نو جو ان قوموں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ان پر ہی قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے اس لئے ہر احمدی نوجوان ایک قیمتی سرمایہ ہے اور ان کا یہ رسالہ ایک بہترین معیار تربیت ہے۔ان تمہیدی کلمات کے ساتھ میں محترم ایڈیٹر صاحب خالد کی خواہش کے احترام میں آج اپنے عزیز نو جوانوں کو اپنی مضمون نویسی کی ابتدا کے متعلق چند امور بتلا نا چاہتا ہوں۔میں آج بھی مضمون نویسی میں مبتدی ہوں۔مگر چونکہ ۱۹۱۹ء کے شروع میں میرا پہلا مضمون شائع ہوا تھا اور اس پر آج نصف صدی بیت چکی ہے اس لئے یہ غیر مناسب نہیں کہ میں اپنی مضمون نویسی کی ابتدا پر چند باتیں بیان کر دوں۔میں ۱۹۱۶ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان کی پہلی جماعت میں داخل ہوا تھا۔میرے والد بزرگوار حضرت میاں امام الدین صاحب ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کے ایک غریب احمدی تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور انہیں صحابیت کا شرف حاصل تھا۔انہیں اللہ تعالی نے احمدیت کی ایسی لگن عطا فرمائی تھی کہ گاؤں میں ہر طرح سے مخالفین کے مظالم کا تختہ مشق بننے کے باوجود وہ شمع احمدیت پر پروانہ وار فدا ر ہتے تھے۔ان کی درمندانہ دعاؤں اور توجہ کا نتیجہ تھا