حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 495 of 923

حیاتِ خالد — Page 495

حیات خالد 493 تصنيفات نہایت ہی قابل قدر اور بلند پایہ دینی تصنیف ہے۔یہ بے حد محنت اور عرقریزی سے لکھی گئی ہے۔اور ۲۰۰۲ ء تک مجموعی طور پر اس کے چھ ایڈیشن ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تفہیمات ربانیہ کا انگریزی ترجمہ مسودہ انگریزی ترجمہ کی شکل میں تیار ہو گیا ہے۔اس ترجمہ کی تقریب کیسے پیدا ہوئی ؟ یہ ایک ایمان۔افروز واقعہ ہے جس کی تفصیل مکرم عطاء المجیب صاحب راشد نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:۔۱۹۸۳ء میں جب میں امام مسجد فضل لندن کے طور پر متعین ہو کر لندن آیا تو اس کے جلد بعد کا واقعہ ہے کہ ایک روز جماعت کے ایک بزرگ مکرم و محترم محمد اکرم خان صاحب غوری آف ایسٹ افریقہ میرے دفتر میں تشریف لائے۔انہوں نے بتایا کہ ۱۹۳۰ء سے قبل کی بات ہے کہ جن دنوں میں مشرقی افریقہ میں رہائش پذیر تھا اور غیر احمدی تھا۔ان دنوں ایک کتاب عشرہ کاملہ کا غیر احمدی حلقوں میں بڑا چرچا تھا۔احمدیوں کے خلاف اس کتاب کو ایک بھاری پتھر تصور کیا جا تا تھا اور بسا اوقات غیر احمدی حضرات اپنے جلسوں میں اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر احمدیوں کو چیلنج دیا کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہوا اور تمہاری احمدیت کی ہے تو ان اعتراضوں کے جواب لاؤ جو اس کتاب میں درج ہیں۔ظاہر ہے کہ ان سب جوابات پر مشتمل کوئی کتاب موجود نہ ہونے پر احمد یوں کو خاموش ہونا پڑتا تھا۔وہ اپنے رنگ میں اعتراضات کے جواب تو دیتے تھے لیکن مخالفین بار بار پوری کتاب کے جواب کا مطالبہ کرتے تھے۔اس عرصہ میں مجھے معلوم ہوا احمدیوں کی طرف سے جوابی کتاب شائع ہوگئی ہے۔مجھے ان امور سے گہری دلچپسی تھی اس لئے میں نے فوراً کتاب حاصل کی۔یہ تمھیمات رہا دی تھی۔میں نے کتاب پڑھنی شروع کی تو مجھے دلچسپ لگی۔میں نے پوری توجہ سے مطالعہ شروع کرد یا مکرم غوری صاحب نے بتایا کہ انہوں نے دونوں کتابوں یعنی عشرہ کاملہ اور تمہیمات ربانیہ کو کھول کر سامنے رکھ لیا اور ترتیب وار ایک ایک اعتراض کا جواب پڑھنا شروع کیا۔میرا شوق بڑھتا گیا اور ذہن بھی مطمئن ہوتا رہا۔بالآخر میں نے اس طرز پر ساری کتاب کا مطالعہ مکمل کر لیا۔میرا دل پوری طرح مطمئن ہو چکا تھا۔اعتراضات حل ہو چکے تھے۔سب سوالوں کے جواب مل گئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کتاب کی برکت سے میں نے فوراً احمدی ہونے کا فیصلہ کر لیا اور بیعت فارم پُر کر دیا۔یہ ساری تفصیل بتانے کے بعد مکرم غوری صاحب کہنے لگے کہ یہ وہ کتاب ہے جو میرے احمدی ہونے کا وسیلہ بنی وگر نہ نہ معلوم میں کب تک ہدایت سے محروم، گمراہی میں بھٹکتا رہتا۔یہ اس کتاب کا