حیاتِ خالد — Page 494
حیات خالد 492 تصنيفات نسوز محترم چوہدری صاحب کو پیش کر دیا جو انہوں نے اپنے غیر احمدی دوست کو بغرض مطالعہ دے دیا۔چند روز بعد بیگ صاحب کے والد ماجد نے پوچھا کہ "تمہیمات رہانیہ“ کہاں ہے تو بیگ صاحب نے سارا قصہ سنایا اور کہا کہ فکر نہ کریں میں کتاب لا دوں گا مگر جب چوہدری صاحب سے پتہ کیا تو معلوم ہوا که کتاب اس قدر دور جا چکی تھی کہ واپسی ناممکن تھی۔بیگ صاحب نے اپنے والد صاحب کو تسلی دی کہ کہیں نہ کہیں سے وہ اس کتاب کا نسخہ فراہم کر دیں گے مگر ان کے والد گرامی نے فرمایا کہ میاں ! بیشک کوئی اور نسخہ اس کتاب کا لے آؤ میرے نسخہ والی بات تو نہ ہوگی۔پوچھا کہ اس نسخہ میں کیا خاص بات تھی تو انہوں نے بتایا کہ وہ ۱۹۳۰ء کے جلسہ پر قادیان گئے اور جب جلسہ کے دوران سید نا حضرت مصلح موعود نے تمہیمات ربانیہ (جو انہی دنوں شائع ہوئی تھی) کی تعریف فرمائی اور احباب کو خریدنے کی تحریک کی تو آپ کے پاس کراچی واپسی کے کرایہ کے علاوہ صرف اتنی رقم تھی جو دوران سفر کھانے کے لئے کافی ہو سکتی مگر آپ نے تفہیمات ربانیہ خرید لی اور قادیان سے کراچی تک ریل کے سفر میں جو اس زمانہ میں یقیناً چو ہمیں گھنٹوں سے زیادہ کا ہوگا۔کچھ کھائے بغیر صرف پانی پر گزارہ کرتے رہے۔ی تھی اس نیک روح کی اس کتاب کے لئے قدر دانی کے جذبات ! ان کے والد ماجد نے یہ ماجرا سنا کر بیگ صاحب سے فرمایا بیٹا! بھلا تم تصمیمات کا وہ نسخہ کہاں سے لا سکتے ہو جس کے لئے میں نے اتنی بھوک برداشت کی؟ (۱۲) محترم پروفیسر سعود احمد خان صاحب سابق استاد جامعہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں:۔مجھے یاد ہے کہ ابھی میں پرائمری سکول میں بیٹھا ہی تھا کہ حضرت مولانا کی مشہور تصنیف تفہیمات ربانیہ شائع ہوئی۔والد صاحب ( حضرت ماسٹر محمد حسن آسان صاحب دہلوی ) نے محلہ میں جلسہ کا اہتمام کیا۔گیس کے ہنڈولوں سے روشنی کی۔سٹیج بنا اور والد صاحب نے اس کے اوپر کھڑے ہو کر تفہیمات ربانیہ تمام حاضرین کو دکھائی۔کیونکہ اس محلہ کے ایک مولوی صاحب نے کہا تھا کہ قادیانی عشرہ کاملہ کا جواب نہ دے سکے۔حضرت مولانا صاحب نے تفہیمات اسی کے جواب میں تصنیف فرمائی تھی۔(۱۳) محترم صوفی محمد اسحاق صاحب فاضل سابق استاذ جامعہ احمدیہ لکھتے ہیں :۔حضرت مولوی صاحب مرحوم سلسلہ کے ایک نہایت ہی ممتاز صحافی ، ادیب، قلمکار اور مصنف تھے۔آپ نے اُردو اور عربی میں متعدد تصانیف اپنی یاد گار چھوڑی ہیں۔جن میں تھہیمات ربانیہ"