حیاتِ خالد — Page 490
حیات خالد 488 تصنیفات وَاللَّهِ يَكْفِيْ مِنْ كُمَاةِ نِضَالِنَا جَلَدٌ مِنَ الْفِتْيَانِ لِلاعْدَاءِ یعنی خدا کی قسم ہمارے مردان کا رزار میں سے ایک جوان ہی سب دشمنوں کے لئے کافی ہے ایک مرتبہ پھر روز روشن کی طرح پورا ہوا۔وَانَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ تمہیمات ربانیہ لاریب احمد یہ لٹریچر میں ایک بیش بہا اضافہ ہے اور اردو ادب کا بھی ایک شاہکار ہے جس میں مؤلف صاحب کی جوانی کا زور بھی آفتاب نصف النہار کی طرح نظر آ رہا ہے۔یہ کتاب دسمبر ۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۳۱ء سے مبلغین کلاس جامعہ احمد یہ قادیان کے نصاب میں داخل ہو گئی تھی۔احمدیہ پاکٹ بک میں بھی صداقت مسیح موعود علیہ السلام کی ذیل میں اس کے مندرجات بطور خلاصہ درج ہوئے اور اب تک یہ کتاب سلسلہ احمدیہ کی ان لا جواب تصنیفات میں سے ہے جن کا جواب لکھنے سے مخالفین احمدیت عاجز ہیں۔میں اس کتاب کی دوبارہ اشاعت پر مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری سابق مبلغ بلاد عربیه، پرنسپل جامعہ احمدیہ و جامعتہ المبشرین کو دلی مبارکباد دیتا ہوں اور میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالی محترم مولانا صاحب کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مزید خدمات جلیلہ کی بھی توفیق عطا فرما تار ہے۔وو این دعا از من و ز جملہ جہاں آمین باد (۲) محترم جناب شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی سلسلہ عالیہ احمد یہ تحریر فرماتے ہیں:۔یہ معلوم کر کے از حد خوشی ہوئی کہ ادارہ الفرقان کی طرف سے تمہیمات ربانیہ“ کا دوسرا ایڈیشن بہت جلد شائع ہو رہا ہے۔اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ شائع ہوئی تھی تو ہر مبلغ اور تبلیغ احمدیت کا شغف رکھنے والے دوست نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا تھا۔اور اس کا تفصیلی انڈیکس بنا کر شامل کتاب کر لیا تھا اور جب بھی کوئی مخالف اعتراض کرتا تھا۔جھٹ اس کا جواب نکال کر پیش کر دیتا تھا۔چنانچہ میں نے بھی اس کا انڈیکس بنایا تھا جس سے میں اب تک برابر فائدہ اٹھا رہا ہوں۔میرے نزدیک یہ کتاب مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے ایک قسم کی انسائیکلو پیڈیا ہے۔یہ امر اور بھی باعث مسرت ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ جو نئے اعتراضات پیدا ہو گئے ہیں ان کو بھی مد نظر رکھ کر کتاب کے حجم میں خاصہ اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے گویا اس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔مجھے خوب یاد ہے جب یہ کتاب پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی تو سلسلہ کے ایک بزرگ