حیاتِ خالد — Page 488
حیات خالد 486 تصنیفات شائع کی جارہی ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کا نہ صرف خود مطالعہ کریں بلکہ غیر از جماعت دوستوں کو بھی پڑھنے کے لئے دیں۔(۳) محترم جناب شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ امریکہ نے رقم فرمایا ہے :- اس خبر سے خوشی ہوئی کہ محترم مولانا ابوالعطاء صاحب اپنی تصنیف تمہیمات ربانیہ کو جو عشر و کاملہ کے جواب میں ایک لاجواب تصنیف ہے دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔بلا شک وشبہ ان اعتراضات کے جواب میں جو غیر احمدی علماء کی طرف سے احمدیت کے متعلق کئے جاتے ہیں یہ تصنیف لا جواب ہے۔ہر اعتراض کا مکمل و مدلل اور مسکت جواب محققانہ انداز میں لکھا گیا ہے۔جب سالہا سال قبل پہلی دفعہ یہ کتاب شائع ہوئی تو اس وقت کے مبلغین بالعموم اسے اپنے پاس رکھتے اور مناظروں اور مباحثوں میں اس کتاب کے پیش کردہ مواد سے بہت فائدہ اٹھاتے تھے۔اگر چہ آج کل غیر احمدی علماء کے اعتراضات کی نوعیت کسی حد تک بدل چکی ہے تاہم بڑی بھاری تعدا د اعتراضات اور نکتہ چینیوں کی جسے عشرہ کا ملہ کے مصنف نے اپنی کتاب میں جمع کر کے احمدیت پر سخت حملہ قرار دیا تھا ، آج بھی مخالف کیمپ سے جماعت احمدیہ کے خلاف ان ہی کو پیش کیا جاتا ہے۔تمہیمات ربانیہ جب پہلی بار چھپی تھی تو خاکسار نے بڑے شوق سے اسے خریدا اور ہمیشہ اسے زیر مطالعہ رکھا اور اس سے استفادہ کرتا رہا بلکہ مناظروں اور بحث و مباحثہ اور دیگر تبلیغی اغراض کے پیش نظر اس کا انڈیکس بھی تفصیل کے ساتھ تیار کر کے کتاب کے شروع میں لگا دیا تھا تا کہ بوقت ضرورت فوری طور پر ضروری مواد اور حوالہ نکالا جا سکے۔سمجھدار علمی طبقہ میں تفہیمات ربانیہ کی اشاعت خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی مخالفت کا کارگر جواب ہے۔اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِل کا نظارہ پیش کرتی ہے۔محترم مولانا ابو العطاء صاحب کی اسلام اور احمدیت کے لئے عظیم علمی خدمات میں سے کتاب تفہیمات ربانیہ کی تصنیف اور اب اس کی دوبارہ اشاعت بلا ریب مزید قابل قدر تبلیغی و علمی خدمت ہے۔جزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء میرے نزدیک جماعت کے دوستوں کو بالعموم اور ہر ایک مربی، معلم اور تبلیغی جہاد کا جذبہ رکھنے والے اور اس جذبہ کو عملی جامہ پہنانے والے احباب کو بالخصوص چاہئے کہ وہ اس تصنیف کو زیر مطالعہ رکھیں اور اس سے استفادہ کریں بلکہ غیر احمدی احباب میں اس کو تقسیم کریں تا وہ حق و باطل میں امتیاز کر