حیاتِ خالد — Page 487
حیات خالد 485 تصنیفات اس کتاب کا ایک خصوصی امتیاز ایسا ہے جو بیان کئے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔وہ یہ ہے خصوصی امتیاز که اگر چه یه کتاب حضرت مولانا کی ذاتی تصنیف تھی مگر آپ نے اس بارے میں ہر احمدی کو اجازت دے دی کہ وہ چاہے تو اسے طبع کر سکتا ہے اس ضمن میں کتاب کے صفحہ نمبر ۸۰۰ پر آپ نے یہ اعلان شائع فرمایا۔ضروری اعلان: تمہیمات ربانیہ سلسلہ احمدیہ کی امانت ہے۔بے شک یہ میری تصنیف ہے مگر میں خود سلسلہ کا ادنی خادم ہوں۔تمہیمات ربانیہ کو کوئی جماعت کوئی فرد، بلکہ میری اولاد بھی خلیفہ وقت کے مقرر کردہ نظام کی اجازت سے طبع کر سکتی ہے۔واللہ الموفق (مصنف) علماء اور بزرگوں کی گرانقدر آراء کتاب علمیات ربانیہ کے تعلق سید نا حضرت امیر المومنين خلية اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ارشاد آپ نے اس باب کے شروع میں ملاحظہ فرمالیا ہے۔ذیل میں اس کتاب کے متعلق بزرگان جماعت اور تجربہ کارو کامیاب علماء سلسلہ کی گرانقدر آراء درج کی جاتی ہیں جن سے اس کتاب کی افادیت کا انداز و لگایا جا سکتا ہے۔(۱) محترم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے نے تحریر فرمایا ہے۔"میرے محترم جناب ابو العطاء صاحب کی تصنیف لطیف " تمہیمات ربانیہ" پہلی بار دسمبر ۱۹۳۰ء میں بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان کی طرف سے شائع ہوئی تھی خود حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا نام تقسیمات ربانیہ رکھا تھا۔اس کتاب میں خدا تعالیٰ کے عطا کردہ فہم سے مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ایسی کتب جماعت کے نوجوانوں اور نو مبائعین کے لئے بہت ضروری اور مفید ہیں۔اب اس کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔اس کی افادیت ظاہر ہے، دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔(۲) محترم جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد، سابق مبلغ بلاد ربیہ وانگلستان تحریر فرماتے ہیں :- تصمیمات ربانیه مخالفین کے اعتراضات کے جواب دینے کے لئے ایک نہایت مفید کتاب ہے جو مولانا ابوالعطاء صاحب نے ۱۹۳۰ء میں تالیف فرمائی تھی اور اب دوبارہ مفید اضافہ جات کے ساتھ