حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 484 of 923

حیاتِ خالد — Page 484

حیات خالد 482 تصنیفات لکھنے والے ہیں۔یہ کتاب بھی مفید ہوگی۔الفضل ۷ جنوری ۱۹۳۲ء بحوالہ انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۴۰۱-۴۱۱) اس علمی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے موقع پر تقسیمات ربانیہ کے بار دوم کا دیباچہ حضرت مولانا کا تحریر کردہ دیباچہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔اس میں اس کتاب کی اشاعت کی ساری تاریخ درج ہے۔متن حسب ذیل ہے۔الحمد اللہ ثم الحمد للہ کہ کتاب تمہیمات ربانیہ کی دوبارہ اشاعت کی توفیق مل رہی ہے۔حرف آغاز پہلی مرتبہ یہ کتاب دسمبر ۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی تھی۔علماء دیوبند کی اعانت سے منشی محمد یعقوب صاحب پٹیالوی نے عشرہ کاملہ نامی کتاب اس دعویٰ کے ساتھ شائع کی تھی کہ وہ ایک لا جواب کتاب ہے۔اسی بناء پر منشی صاحب موصوف نے اس کے جواب دینے والے کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے عشرہ کاملہ اور تحقیق لاثانی و غیر ھما کے جواب میں تفہیمات ربانیہ ایک جامع تصنیف ثابت ہوئی ہے۔اس میں مخالفین کے ہر اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔مخالفین میں سے کسی کو • آج تک جرات نہیں ہوئی کہ اس کتاب کا جواب لکھتا۔میں نے ۱۹۳۰ء میں مصنف عشرہ کاملہ سے انعامی رقم کا مطالبہ بھی کیا مگر وہ اس کے تصفیہ سے بالکل گریز کر گئے جس کا اعلان ہم نے اخبار الفضل قادیان میں اسی وقت (۱۹۳۱ء میں ) کر دیا تھا۔در حقیقت اہل باطل کے اس قسم کے انعامی چیلینج محض نمائشی ہوتے ہیں۔ہم نے طبع اوّل کے دیباچہ میں بھی اس کی وضاحت کر دی تھی۔( معلوم ہوا ہے کہ اب منشی محمد یعقوب صاحب پٹیا لوی فوت ہو چکے ہیں )۔ہمیں انسانوں سے کسی انعام کی خواہش نہیں ہے ان اجرى إِلَّا عَلَى اللهِ۔ہماری تو اپنے مسلمان بھائیوں سے صرف یہی درخواست ہے کہ وہ خدا ترسی سے کام لے کر اس کتاب کو غور اور تدبر سے مطالعہ فرمائیں۔اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے۔آمین پہلی مرتبہ اس کتاب کی ترتیب و تدوین کی تکمیل کوہ مری میں اخویم محترم حکیم عبد الرحمن صاحب خاکی بی۔اے کے مکان پر ہوئی تھی۔جب کہ ان کے مکان کے ایک کمرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ صحابی حضرت مولانا شیر علی صاحب انگریزی ترجمۃ القرآن میں مصروف ہوا کرتے تھے اور دوسرے کمرہ میں خاکسار تمہیمات ربانیہ کی تکمیل میں منہمک ہوا کرتا تھا۔ان دنوں میرے ہمراہ میرا بیٹا