حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 483 of 923

حیاتِ خالد — Page 483

حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی سب سے پہلی اور سب سے یاد ا تفہیمات ربانیه کار اور شاندار تصنیف "تمہیمات ربانیہ" ہے۔اس کے دوسرے ایڈیشن کے وقت اس کے کل صفحات ۸۲۴ تھے۔اس کتاب کی تصنیف کے وقت حضرت مولانا کی عمر ۲۶ سال تھی۔جماعت احمدیہ کے اختلافی مسائل اور غیروں کی طرف سے اعتراضات کے جواب کے سلسلے میں اس کتاب کا بہت بلند مرتبہ ہے۔یہ کتاب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد پر حضرت مولانا نے تحریر فرمائی۔اس مقصد کے لئے آپ کو دیگر جماعتی ذمہ داریوں سے رخصت دی گئی اور گرمی کے موسم میں مری کی ٹھنڈی اور خوشگوار فضاء میں آپ تشریف لے گئے۔اس کتاب کا اصل مرتبہ تو اس کے پڑھنے سے معلوم ہوگا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور بعض خدام احمدیت کی آراء پیش ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا ارشاد سیدناحضرت علیہ اسی اضافی نے کتاب سیدنا دو تفہیمات ربانیہ کی اشاعت دسمبر ۱۹۳۰ء کے موقع پر اس کتاب کے بارے میں قیمتی آراء ارشاد فرما ئیں۔حضور کا یہ ارشاد گرامی حضرت مولانا نے کتاب کے دوسرے ایڈیش کی طباعت دسمبر ۱۹۶۴ء کے موقع پر درج فرمایا۔جلسہ کی تقریر میں آپ نے فرمایا :- اس کا نام میں نے ہی تفہیمات ربانیہ رکھا ہے۔(طباعت سے پہلے ) اس کا ایک حصہ میں نے پڑھا ہے جو بہت اچھا تھا۔اس کتاب کے لئے کئی سال سے مطالبہ ہو رہا تھا کئی دوستوں نے بتایا کہ عشرہ کاملہ میں ایسا مواد ہے کہ جس کا جواب ضروری ہے۔اب خدا کے فضل سے اس کے جواب میں اعلیٰ لٹریچر تیار ہوا ہے۔دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت کرنی چاہئے"۔(الفضل ۱۳؍ جنوری ۱۹۳۱ء ) اگلے سال ۱۹۳۱ء میں ایک بار پھر حضرت مصلح موعودؓ نے اس بلند پایہ علمی تصنیف کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:- ایک کتاب تفہیمات ربانیہ ابوالعطاء مولوی اللہ دتا صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔میں نے اسے دیکھا نہیں۔کہتے ہیں اچھی ہے۔مولوی اللہ دتا صاحب ہو نہار نو جوان ہیں اور اچھا