حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 471 of 923

حیاتِ خالد — Page 471

حیات خالد 467 ماہنامہ الفرقان" انجمن احمد یہ رقم فرماتے ہیں۔آپ کی زیر ادارت اور زیر انتظام نہایت اعلیٰ پایہ کا علمی رسالہ الفرقان با قاعدگی سے چھپتا رہا۔جس میں دیگر مذاہب اور دیگر فرقوں کے متعلق اعلیٰ پائے کے علمی تبصرے شائع ہوتے رہے۔مکرم خواجہ رشید احمد صاحب سیالکوٹی، واقف زندگی سابق انسپکٹر تحریک جدید نے لکھا۔O حضرت مولانا نے ماہنامہ الفرقان کے ذریعے جو دینی خدمات اور کارنامے سرانجام دیئے انہیں کوئی نہیں بھلا سکتا۔حضرت مولانا نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا سیر حاصل بحث کے ذریعہ اس موضوع کے ہر پہلو کو اجاگر کر دیا اور کوئی بات بھی ادھوری نہ رہنے دی۔مکرم خواجہ صاحب کا یہ بیان بالکل درست ہے۔حضرت مولانا کا ہمیشہ یہ طریق رہا کہ آپ حوالہ جات کو بڑی محنت سے خود تلاش کرتے یا اور دوستوں کے ذریعہ تلاش کرواتے اور اشاعت کے وقت حوالوں کی صحت کا بہت خیال رکھتے۔خود بھی پروف ریڈنگ کرتے اور دیگر احباب سے بھی مدد لیتے۔اس سلسلہ میں آپ کا یہ طریق بھی تھا کہ اگر کوئی دوست کسی اخباری خبر یا تراشہ کو اپنے ہاتھ سے نقل کر کے بھجواتے تو آپ اس وقت تک اسے شائع نہیں فرماتے تھے جب تک وہ خود اس تراشہ کا اصل نہ بھجوا دیں یا حضرت مولانا خود مقامی طور پر اس اخبار یا رسالہ سے خود وہ حوالہ ملاحظہ نہ فرمالیں۔حوالوں کے بارہ میں احتیاط آپ کا ایک بہت ہی نمایاں وصف تھا۔حوالوں کی تلاش میں جس طرح آپ محنت کرتے اور کرواتے تھے اس کی ایک خوبصورت مثال مکرم خواجہ رشید احمد صاحب سیالکوٹی مرحوم نے لکھی ہے جو اگر چہ قادیان کے زمانہ کی ہے جب کہ آپ رسالہ الفرقان کے ایڈیٹر تھے لیکن آپ کا سہی انداز اور طریق بعد میں بھی ہمیشہ جاری رہا اور خاص طور پر الفرقان کی ادارت کے وقت۔خواجہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ :- حضرت مصلح موعود نے جب ۱۹۴۴ء میں اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا اور ہوشیار پور، لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں جلسوں کے ذریعے پیشگوئی کے ہر پہلو کو واضح فرمایا۔دہلی کے جلسہ میں تشریف لے جانے سے قبل حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اپنے رسالہ "فرقان" کا جو قادیان سے چند سال شائع ہوتا رہا۔پیشگوئی مصلح موعود کے بارے میں خصوصی نمبر جو کہ سو صفحات پر مشتمل تھا شائع کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔بہت حد تک اس رسالہ کی تیاری مکمل تھی اور چند صفحات باقی تھے۔جن کی تکمیل دہلی سے واپسی پر ہو نا تھی۔