حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 460 of 923

حیاتِ خالد — Page 460

حیات خالد 456 ماہنامہ الفرقان کسی اخبار میں کوئی اعتراض اٹھایا جاتا، الفرقان کے اگلے شمارہ میں اس کا جواب موجود ہوتا۔اس سلسلہ میں قارئین ہمیشہ جواب کے منتظر رہتے اور اس سلسلہ میں مدد پر بھی مستعد رہتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک بار یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ربوہ میں مسجد کا نام مسجد اقصیٰ کیوں رکھا گیا ہے؟ قارئین نے فوراً اپنے اپنے علاقہ میں غیر احمدیوں کی مساجد اقصیٰ کی تصاویر بھیجوائی شروع کر دیں۔الفرقان کے اگلے پرچہ میں اعتراض کا مدلل جواب بھی شائع ہوا اور ساتھ ہی پاکستان کے طول وعرض میں بننے والی متعدد مساجد اقصیٰ کی تصاویر بھی۔اس لحاظ سے رسالہ الفرقان کو تبلیغی مواد بر وقت مہیا کرنے کی غیر معمولی توفیق عطا ہوتی رہی۔الحمد للہ چند گراں قدر تبصرے ماہنامہ الفرقان کے بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ارشادات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔اب اس جگہ ماہنامہ کے معزز قارئین میں سے بعض کے تبصرے اور آراء درج کی جاتی ہیں۔0 ہیں کہ :۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ ضلع سرگودھا رقم فرماتے "رسالہ الفرقان کو ایک لمبا عرصہ نہایت عمدگی اور کامیابی سے چلایا۔غیر از جماعت دوست بھی اس کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔خاکسار کو بھی اس میں مضامین دینے کیلئے تحریک فرماتے رہتے۔چنانچہ خاکسار نے کئی دفعہ ان کے ارشاد کی تعمیل کی۔افسوس ہے کہ آپ کی وفات پر یہ رسالہ بند ہوگیا اور جماعت اس نفع سے محروم ہو گئی۔اس کی افادیت کے پیش نظر میں نے اس رسالہ کے فائل بھی رکھے ہوئے ہیں بلکہ بعض دفعہ محترم مولانا کو مجھ سے فائل منگوا کر دیکھنا پڑا۔0 جماعت کے ممتاز صحافی ، ادیب اور شاعر جناب ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ لاہور نے حضرت مولانا صاحب کی وفات پر جو ادارتی نوٹ لکھا اس میں حضرت مولانا کی ہمہ جہتی زندگی کو گویا کوزے میں دریا بند کرنے کے مصداق چند سطروں میں سمو دیا۔الفرقان کے بارے میں آپ لکھتے ہیں :- جو درد تقریر میں تھا۔وہی دل گداز رعنائی و تاثیر تحریر میں تھی۔آپ کو پڑھتے ہوئے اکثریوں