حیاتِ خالد — Page 453
حیات خالد 449 ماہنامہ الفرقان کے ۲۸ صفحات میں سے ۲۰ صفحات پر مولانا صاحب کی اپنی قلم پاشیاں ہیں۔ان کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات، حضرت حافظ روشن علی صاحب کا مضمون ، مکرم مولانا عطاء المجیب صاحب راشد کا مضمون اور حکیم عبدالرشید صاحب کا ایک اہم مضمون بعنوان روزوں کے فوائد طیبی نقط نگاہ سے شائع ہوا ہے۔۹۶ صفحات پر مشتمل یہ نمبر اسلام اور عیسائیت کا فضیلت اسلام نمبر ( مئی جون ۱۹۶۸ء) تقابلی جائزہ ہے۔اس شمارے میں بھی مولانا کے قلم نے جلوہ گری کی اور آپ کے ۴ مضامین شائع ہیں۔اس شمارے کی سب سے اہم بات تحریرات اہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قرآن اور اناجیل کی تعلیمات کا اصولی موازنہ کیا گیا ہے۔ایک اہم سلسلہ خطوط کا تذکرہ بھی اس شمارہ میں موجود ہے جو محترم بشیر احمد خان صاحب رفیق نے آرچ بشپ آف کنٹر بری اور رومن کیتھولک آرچ بشپ آف ویسٹ منسٹر کو کھلی دعوت کے سلسلے میں لکھے۔ان کا تر جمہ چوہدری علی محمد صاحب بی۔اے بی۔ٹی نے کیا۔لا نسخ في القرآن نمبر (جولائی ۱۹۶۵ء) ۸۴ صفحات پر مشتمل یه شماره قرآن کریم کے خلاف اٹھنے والے اس اعتراض کا مفصل اور مسکت جواب ہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات منسوخ ہیں۔دراصل اسلاف علماء اسلام جنہوں نے قرآن کریم کی تفاسیر لکھی ہیں انہوں نے بعض آیات کو بعض سے متضاد قرار دے کر یہ کہہ دیا کہ قرآن کریم کی بعض آیات بعض کو منسوخ کرتی ہیں۔ان منسوخ آیات کی تعداد ایک ہزار ، چھ سو، پچاس اور پانچ تک رہی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لا نسخ في القرآن یعنی قرآن کریم کی کوئی سورت، آیت، رکوع، لفظ ، حرف اور شعشہ تک بھی منسوخ و محرف و مبدل نہیں ہے۔(الفرقان جولائی ۱۹۶۵ء) عقلی لحاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مختلف ادوار و زمن میں منسوخ شدہ آیات کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ منسوخ ہونے کے عقیدہ میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جس آیت کی سمجھ کسی عالم کو نہیں آئی اس نے اسے منسوخ قرار دے دیا۔یوں یہ سلسلہ چلتا رہا اور بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آکر یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسبیع الاول کے حوالہ جات کے بعد سب سے اہم مضمون حضرت قاضی محمد نذیر صاحب