حیاتِ خالد — Page 454
حیات خالد 450 ماہنامہ الفرقان فاضل کا ہے جس میں انہوں نے لا نسخ فی القرآن پر سیر حاصل بحث کی ہے۔۹۶ صفحات پر مشتمل اس انگریزی حکومت اور مسلمان نمبر ( فروری مارچ ۱۹۷۱ء) شمارے میں مولانا صاحب نے دیگر اسلامی فرقوں کے انگریزی حکومت کے بارے میں خیالات اور ان کے ساتھ تعلقات کو واضح کرتے ہوئے جماعت احمدیہ پر لگائے جانے والے اس اعتراض والزام کی تردید کی ہے کہ جماعت احمد یہ اس لئے انگریزی حکومت کی طرف دار ہے کیونکہ یہ اس کا خود کاشتہ پودا ہے۔ان جوابی مضامین سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جیسے الزامات جماعت احمدیہ پر لگائے جاتے ہیں ان سے کہیں زیادہ بھیا تک الزامات دوسرے اسلامی فرقوں پر لگائے جاسکتے ہیں اور وہ درست بھی ہیں لیکن جماعت پر لگائے جانے والے اعتراضات درست اور ٹھیک نہیں ہیں کیونکہ دوسرے فرقوں میں بیانات کا باہمی نقضا د موجود ہے جب کہ جماعت احمدیہ میں ایسا کوئی تضاد نہیں ہے۔اس لحاظ سے یہ شمارہ ایک گرانقدر خدمت کی منہ بولتی تصویر ہے۔جولائی اگست ۱۹۷۲ء میں شائع ہونے والے قرآن نمبر ( جولائی اگست ۱۹۷۲ء) قرآن نمبر میں محترم مولانا شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلا دعر بیہ کا بہت اہم مقالہ بعنوان ” قرآنی سورتوں کی وجہ تسمیہ اور حکمت شائع ہوا۔علاوہ ازیں اس شمارہ میں تین نظمیں اور ایک عربی قصیدہ شائع ہوا۔گویا یہ ایک موضوعاتی شمارہ ہے جس میں مولانا ابوالعطاء صاحب کا اپنا ایک بہت ہی اہم مضمون بعنوان " قرآن مجید میں عجمی الفاظ بھی چھپا۔جو بہت اہمیت کا حامل مضمون ہے۔۹۶ صفحات پر پھیلا ہوا یہ جماعت احمد یہ اور اسرائیل نمبر مارچ اپریل ۱۹۷۶ء) عمرہ جماعت پر لگائے جانے والے اس اعتراض کا مدلل جواب ہے کہ جماعت احمد یہ اسرائیلی ایجنٹ ہے اور ان کے بعض لوگ اسرائیلی فوج میں بڑے بڑے افسر ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بہت زیرک اور موقع شناس انسان تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے مسائل کو اُٹھاتے ہیں جن کا حل بہت ضروری ہوتا ہے پھر ان مسائل کے حل کیلئے ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو گہری تحقیق کے بعد کسی بات کو بیان کر کے اس کا سچ اور جھوٹ کھول دیتے ہیں۔اس شمارے میں ایک بہت ہی اہم مقالہ 'رسالہ ربوہ سے تل ابیب تک پر