حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 452 of 923

حیاتِ خالد — Page 452

حیات خالد 448 ماہنامہ الفرقان ย جلال الدین صاحب شمس نے حضرت مصلح موعودؓ کے کارنامے“ کے عنوان سے ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔چیدہ چیدہ کارناموں میں تبلیغ اسلام علم القرآن، سیاسی مسائل میں رہنمائی سخت ذہین و فہیم ہوتا، آزادی کشمیر کی تحریک اور تعمیر ربوہ شامل ہیں۔پھر مولا نا ابو العطاء صاحب نے اپنے ذاتی تعلق کے حوالے سے کچھ باتیں سپرد قلم کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جہاد نمبر (i) جون ۱۹۶۵ء (ii) جون جولائی ۱۹۶۶ء ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ جہاد کے منکر ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اعتراض کے جواب میں ويضع الحرب کی حدیث مبارک پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں لڑائی موقوف ہو جائے گی۔لہذا ضروری تھا کہ اس بے حد نزاعی موضوع کو کھول کر منظر عام پر لایا جاتا اور حقیقت حال کو واضح کر دیا جاتا۔اسی سلسلہ میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے جون ۱۹۶۵ء میں جہاد نمبر شائع کیا اور پھر جون جولائی ۱۹۶۶ء میں دوسرا جہاد نمبر نکالا۔جون جولائی ۱۹۶۶ء کے جہاد نمبر کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ مولانا نے اسلام کے تمام مکاتب فکر کے علماء کے ضروری حوالہ جات اکٹھے کر دیئے ہیں۔اس لحاظ سے اس شمارے کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ایک اور خاص بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ جات کے علاوہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا مقالہ ہے۔یہ شماره سخت محنت ، جانکاہی اور روانی و سلاست قلم کی ایک اعلیٰ تصویر پیش کر رہا ہے اور طرہ یہ کہ ہر مضمون اہمیت اور فائدہ کے لحاظ سے چوٹی کا ہے یوں لگتا ہے کہ حضرت مولانا نے اپنی عمر بھر کی ریاضتیں الفرقان کے صفحات پر بکھیر کر انہیں احمدیہ لٹریچر کیلئے تا قیامت کارآمد بنا دیا ہے۔رمضان المبارک کے رمضان المبارک نمبر (۱) دسمبر ۱۹۶۶ء (ii) دسمبر ۱۹۶۸ء مسائل اور برکات پر الفرقان کے دو خصوصی نمبر شائع ہوئے۔دسمبر ۱۹۶۶ء کا شمارہ ۴۲۸ صفحات پر مشتمل ہے اور دسمبر ۱۹۶۸ء کا شمارہ بھی ۲۴۸ صفحات پر ہی مشتمل ہے پہلے شمارہ میں تقریباً ۳۷ صفحات کا ایک نہایت قیمتی مقالہ جناب مولانا شیخ نور احمد صاحب منیر کا ہے جو اپنی مثال آپ ہے اس مقالہ میں انہوں نے آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے تحت اسلامی روزہ کی اہمیت اور دیگر اہم مسائل کو اجاگر کیا ہے۔دوسرے خصوصی نمبر