حیاتِ خالد — Page 451
حیات خالد 447 ماہنامہ الفرقان مذہبی سکالر ہونے کے ساتھ ساتھ ادب نگار بھی تھے۔چنانچہ اس بات کا جائزہ قریشی عبدالرشید صاحب پلیڈر کے مضمون میں پیش کیا گیا ہے جو اس رسالہ کے صفحہ ۶۸ تا اے پر بعنوان " اُردو کا عظیم نثر نگار شائع ہوا۔انہوں نے آپ کی تحریر کے نمونہ جات دیئے ہیں۔ایک نمونہ پیش خدمت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کمال کی تشبیہات اور استعارات آسانی اور روانی سے بیان کرتے چلے جاتے ہیں اور دقت محسوس نہیں کرتے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بارے میں لکھا کہ :- اس خبر نے جماعت کو گو یا غم سے دیوانہ کر دیا ہے اور دنیا ان کی نظر میں اندھیر ہو گئی اور گو ہر دل غم سے پھٹا جاتا تھا اور ہر آنکھ اپنے محبوب کی جدائی میں اشکبار تھی اور سینہ سوزش ہجر میں جلا جا تا تھا۔(الفرقان اپریل مئی ۱۹۶۴ء صفحه ۱۲) الغرض مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تاریخ ولادت کا ذکر کیا ہے ان کی علمی وادبی و جماعتی خدمات اور احمدیت کے لئے تڑپ کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کی ذاتی زندگی کے مختلف ادوار کا ذکر کم کیا ہے جس کی تحقیقی اس رسالے میں باقی ہے۔۱۰۰ صفحات پر مشتمل حضرت فضل حضرت فضل عمر نمبر (دسمبر ۱۹۶۵، جنوری ۱۹۶۶ء) عمر نمبر جماعتی اخبارات اور رسائل میں حضرت فضل عمر کی وفات کے بعد شائع ہونے والا پہلا بھر پور خاص نمبر ہے۔اس شمارے کے لئے لکھنے والوں میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ، حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب ، مولا نا دوست محمد شاہد صاحب، مولانا عزیز الرحمن صاحب منگلا اور محترم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب جیسے نامور اہل قلم شامل ہیں۔علاوہ ازیں ۱۶۔نومبر ۱۹۶۵ء کے اخبار " The Light میں A Great Nation Builder کے عنوان سے شائع ہونے والا نوٹ بھی چھاپا گیا ہے۔گو یا فضل عمر نمبر حضرت مصلح موعود کی زندگی پر ایک سیر حاصل خراج تحسین کا درجہ رکھتا ہے۔تمام مضامین اپنی مثال آپ ہیں لیکن حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا مضمون بعنوان آخری لمحات ایک ادبی المیہ نثر سے کم حیثیت کا حامل نہیں۔یہ تحریر صرف جذبات و محسوسات کی ایک بے مثال تصویر کشی ہی نہیں بلکہ Original فن تحریر اور ادبی لطف کا ایک نادر نمونہ ہے۔اس تحریر میں اس قدر لطف اور روانی ہے کہ انسان بے ساختہ خود کو اس کمرے میں محسوس کرتا ہے جہاں بیسویں صدی کے اس اہم ترین وجود نے اپنا آخری مبارک وقت گزارا۔اس کے علاوہ مولانا