حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 450 of 923

حیاتِ خالد — Page 450

حیات خالد 446 ماہنامہ الفرقان والی حدیث کا مضمون راسخ تھا کہ انہوں نے رد عیسائیت میں بے شمار مضامین شائع کرتے رہنے کے با وجود یہ خاص نمبر بھی نکالا اور پھر کمال کے ساتھ ایسا رد کیا کہ واقعہ عیسائیت کو فاش شکست ہوئی۔اس رسالے کا ایک خاص مضمون حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا ہے علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود السلام کے دلائل منظوم و منثور کلام اور کفارہ کے متعلق خاص بحث اس شمارے کی زینت ہے۔یہ ایک ایسا خوبصورت شمارہ ہے کہ مسلمان طالبعلم کے ساتھ ساتھ عیسائیت کے کسی طالبعلم کے لئے اس کا مطالعہ بہت مفید اور ضروری ہے۔قادیان جماعت احمدیہ کا درویشان قادیان نمبر (اگست ستمبر اکتوبر ۱۹۶۳ء) دائمی مرکز ہے۔گو حضرت مصلح موعودؓ کو قادیان سے ربوہ اور پھر حضرت لیفہ مسیح الرابع کولندن ہجرت کرنا پڑی۔لیکن روز اول سے آج تک قادیان کی دائمی حیثیت قائم ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی جو ایک دفعہ آنے کے بعد پھر وہاں نہ جا سکے بے حد ترپ کے ساتھ قادیان کو یاد فرمایا کرتے تھے۔انہی جذبات و محسوسات کا آئینہ دار الفرقان کا یہ خصوصی شمارہ ہے جو درویشان قادیان نمبر ہے۔اگست ستمبر اور اکتوبر ۱۹۶۳ء میں ۱۸۰ صفحات پر مشتمل الفرقان کے اس خصوصی نمبر کو صدرانجمن احمد یہ قادیان کی اجازت اور تعاون سے شائع کیا گیا اور اس میں مندرج تفصیلات نے اس خاص نمبر کو ایک اہم قومی دستاویز بنا دیا ہے۔اس خاص نمبر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، خلفاء مسیح موعود علیہ السلام، مقامات مقدسہ قادیان - درویشان کرام قادیان اور دیگر متعلقہ افراد کے ۳۲ فوٹو اور نقشہ آبادی قادیان بھی شامل ہے اس شمارے کی اہمیت اس طرح بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں حضرت مصلح موعودؓ کے ۲ پیغام اور مختلف شعراء کی ۲۵ نظمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔۱۰۰ صفحات پر مشتمل یہ نمبر ایک تاریخی شخصیت پر نکالا قمر الانبیاء نمبر اپریل مئی ۱۹۶۴ء) گیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے " قمر الانبیاء" کے لقب سے ملقب کئے گئے۔علمی خدمات کے لحاظ سے جماعت میں ان کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہے جماعتی رسالہ جات و اخبارات میں ان کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے رہے اور آپ ایک لازوال داستان چھوڑتے ہوئے ۲۔ستمبر ۱۹۶۳ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔۳۰ مضامین اور دس نظموں پر مشتمل یہ شمارہ حضرت قمر الانبیاء کی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے۔آپ