حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 44 of 923

حیاتِ خالد — Page 44

حیات خالد سادگی 47 ولادت، بچپن اور تعلیم حضرت مولانا نے اپنی خودنوشت سوانح میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے اپنی اس ابتدائی ملاقات کے ضمن میں اپنی سادگی کا ایک واقعہ بہت پر لطف انداز میں بیان کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں:- "-" میں اس وقت تک اپنے گاؤں سے باہر دور کہیں نہ گیا تھا۔اس وقت کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ میں نے سنا ہوا تھا کہ حضرت میرزا محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہوئے ہیں میں جب مسجد مبارک میں داخل ہوا تو ادھر ادھر دیکھتا تھا کہ گدی کہاں پیچھی ہوئی ہے۔جس پر حضرت خلیفہ اسے بیٹھے ہوں گے۔جب نماز کے بعد مسجد میں حلقہ بن گیا اور سب کی توجہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف ہو گئی۔تب میں نے سمجھا کہ آپ ہی خلیفہ وقت ہیں اور گدی پر بیٹھنا مجازا ہے"۔حضرت مولانا کے اپنے الفاظ میں اس کی تفصیل کچھ اس طرح مدرسہ احمدیہ میں داخلہ ہے:- ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے افسر درس گاہ سیدی حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔دوسرے دن ہم مینوں اور محترم ماسٹر چوہدری فضل احمد صاحب مرحوم آف سٹروعہ مدرسہ کے دفتر میں پہنچے۔مجھے ابھی تک وہ نظارہ خوب یاد ہے جب ہم بیچ پر سامنے بیٹھے تھے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سامنے میز کے دوسری طرف کرسی پر تشریف فرما تھے۔بڑی پیاری اور دلر با گفتگو تھی۔اُردو، حساب، جغرافیہ وغیرہ میرا اچھا تھا مگر عربی و انگریزی سے میں محض نابلد تھا۔میری خواہش تھی کہ مجھے جماعت اوّل سے بھی نیچے پیشل کلاس میں داخل کیا جائے مگر حضرت میرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا کہ آٹھ سال تک عربی انگریزی پڑھنی ہے ہم آپ کو جماعت اوّل میں ہی داخل کریں گے۔چنانچہ میں خدا کا نام لے کر مدرسہ احمدیہ کی جماعت اوّل میں داخل ہو گیا۔بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِبِهَا وَ مُرْسَهَا حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو بھی یہ دن اخیر تک یادرہا۔آپ نے اس کا کئی دفعہ ذکر فرمایا۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ء صفحہ ۴۲) اس تذکرہ کا ایک موقعہ وہ تھا جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے دسمبر ۱۹۶۱ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا۔اس وقت مجھے قریبا نصف صدی پہلے کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب کہ میں مدرسہ احمدیہ کا منیجر ہوتا