حیاتِ خالد — Page 43
حیات خالد 46 ولادت انگین اور تعلیم احمد صاحب نے حضور سے عرض کیا کہ حضور! میاں امام الدین صاحب اپنے بیٹے کو وقف کرنے کیلئے لائے ہیں۔حضور نے حضرت والد صاحب مرحوم کی طرف مخاطب ہو کر اور مجھے دیکھ کر فرمایا: انہیں مدرسہ احمدیہ میں داخل کر دیں۔حضرت چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ لڑکے کے ماموں صاحب نے لکھا ہے کہ اسے ہائی سکول میں پڑھایا جائے وہ خرچ دیں گے۔حضور نے قطعیت کے رنگ میں فرمایا کہ میری تو یہی رائے ہے کہ اسے مدرسہ احمدیہ میں داخل کیا جائے۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ ء صفحه ۴۲) اگر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ مدرسہ احمدیہ کی بجائے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل ہو جاتے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی خداداد ذہانت کی وجہ سے جس میدان میں بھی جاتے ترقی کرتے۔لیکن کیا ترقی کرتے ؟ کسی سرکاری محکمہ میں اعلیٰ افسر ہو جاتے۔ترقی کرتے کرتے کسی محکمہ کی اعلیٰ ترین پوسٹ حاصل کر لیتے۔یہ سب ممکن تھا۔لیکن دنیاوی محکموں میں امتیاز حاصل کرنے والے کتنے ہیں جن کو عزت و تکریم کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے اور جن پر کتب لکھی جاتی ہیں۔جن کے سر پر شہرت عام اور بقائے دوام کا تاج رکھا جاتا ہے اور پھر یہ کہ وقف زندگی کا راستہ اختیار نہ کیا ہوتا اور دنیاوی مناصب منزل مقصود تھہر تے تو آپ کو " خالد احمدیت کون قرار دیتا۔حضرت سیدنا مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی مبارک زبان سے یہ خوبصورت اور دلنواز اور با برکت خطاب کس طرح آپ کو ملتا ؟ لاریب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا حضرت مولانا کی تعلیم کے بارہ میں قطعی فیصلہ ایک نہایت بابرکت تاریخی فیصلہ تھا جس نے آپ کی زندگی کو صیح خطوط پر ڈال دیا اور آپ کی آئندہ زندگی کی مبارک راہیں بھی متعین کر دیں۔یہ حضرت مولانا کی سید نا محمود سے بحیثیت خلیفہ اسیح پہلی ملاقات تھی۔اس کے بعد تو محمود و ایاز کا یہ تعلق قرب اور وسعت میں ہر آن ترقی پذیر رہا اور اس کا سلسلہ نصف صدی پر محیط ہے۔اس کی تفصیل تو آئندہ صفحات میں آئے گی لیکن اس موقع پر یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے اور بعد کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ سید نا محموڈ کے دست شفقت کا یہ پہلا اظہار اور تاریخ ساز فیصلہ کتنے دور رس نتائج کا حامل تھا اور پھر دیکھئے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس فیصلہ نے کیسا شیریں ثمر پیدا فرمایا۔