حیاتِ خالد — Page 448
حیات خالد 444 ماہنامہ الفرقان خلفاء راشدین کی حقانیت پر قرآنی شہادت، خلفاء ثلاثہ کی حقانیت اور دیگر شیعی مسائل پر شیعہ ا کا ہر سے نہایت دلچسپ گفتگو، حضرت ابو بکر خلیفہ بلا فصل اور حضرت علی کی آپ کے ہاتھ پر رضا مندانہ بیعت وغیرہ۔ایک اہم بات یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ ملوکیت اقتدار اور خلافت راشدہ کے ما بین سات فرق اس رسالے کی زینت کو چار چاند لگا رہے ہیں۔وہ سات فرق یہ ہیں۔ا۔طریق انتخاب۔۲۔شریعت۔۳۔شوری۔۴۔مساوات - ۵ - اخلاقی دباؤ۔۶۔عصمت صغری ۷۔سیاسیات سے بالا۔الغرض خلافت راشدہ کے بارے میں یہ نمبر بہت ہی اہمیت رکھتا ہے جس میں ہر ضروری امر پر مضامین کا بہترین انتخاب موجود ہے۔۸۵ صفحات پر مشتمل یہ انفرادی حضرت حافظ روشن علی صاحب نمبر (دسمبر ۱۹۶۰ء) نوعیت کا شمارہ ایک تاریخی اور ایمان افروز دستاویز ہے۔مولانا ابوالعطاء صاحب کی یہ خدمت ایک گرانقدر اہمیت رکھتی ہے۔اس شمارے میں کل ۳۲ مضامین اور ا انتظمیں ہیں جن میں حضرت حافظ صاحب موصوف کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں حضرت مصلح موعودؓ نے جو خراج عقیدت پیش فرمایا وہ بھی اس میں درج ہے۔الغرض اس شمارے میں حضرت حافظ صاحب کے اوصاف حمیدہ و طریقہ ہائے صافیہ، خدمات دینیہ اور زہد و تقوی پر روشنی ڈالی گئی ہے اور حضرت حافظ صاحب کی زندگی کو ایک بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔حضرت حافظ صاحب مولانا ابوالعطاء صاحب کے استاد تھے۔حضرت مولانا نے اپنے استاد کو خراج تحسین پیش کر کے ایک سعادت مند شاگرد ہونے کا ثبوت دیا۔۱۹۶۱ ء میں جناب مولوی سمیع اللہ صاحب فاضل فلسفه امامت نمبر (مئی جون ۱۹۶۱ء) انچارج احمد یہ مسلم مشن بمبئی بھارت نے یوم مسیح موعود پر میمنوں ، بوہروں اور خوجوں کے سامنے فلسفہ امامت پر تقریر کی اور لوگوں کی اس خواہش پر کہ اس کو احاطہ تحریر میں لایا جائے مولوی صاحب موصوف نے یہ تقریر کچھ تصرف اور اضافہ کے ساتھ تحریر کی اور ساتھ لکھا کہ ”میں نے جو تقریر کی تھی اگر وہ متن تھی تو یہ اس کی شرح ہے"۔(الفرقان مئی جون ۱۹۶۱ صفحه ۹) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اس تقریر کو شائع کر دیا جو ۹۰ صفحات پر مشتمل تھی۔یہ تقریر شیعی