حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 447 of 923

حیاتِ خالد — Page 447

حیات خالد 443 ماهنامه " الفرقان" تعلیمی نمبر ( جنوری ۱۹۵۶ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم تعلیمات کے تتبع میں مولانا ابوالعطاء صاحب نے یوں تو الفرقان کے تمام شمارہ جات کو تعلیمی اور علمی نقطہ نظر سے ایک نیا رخ عطا فرمایا تھا لیکن خاص طور پر تعلیمی نمبر شائع کر کے ”ناصر سلطان القلم ہونے کا حق ادا کیا اور ثابت کیا ہے کہ اصل تعلیم وہی ہے جو قرآن حکیم نے عطا فرمائی یا جس کا پتہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث نبویہ میں ملتا ہے۔پس اس تعلیم کے بارہ میں جو اسلام نے دی ہے یہ شمارہ ایک بہترین اساسی رہنمائی کرتا ہے۔اس شمارے میں کل ۱۸ مضامین ہیں جن میں تین مضامین خود مولانا موصوف کے لکھے ہوئے شامل ہیں۔علاوہ ازیں حضرت مصلح موعودؓ کی ایک یاد گار تقریر بھی شامل ہے جو آپ نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۵ء کے موقع پر کی تھی۔یہ تقریر جماعت احمدیہ کی مساعی کا شاندار تذکرہ ہے جو اشاعت علوم کے لئے جماعت نے کیں۔ام الالسنہ نمبر اپریل مئی ۱۹۵۶ء) ماہانہ پر چوں کے لئے ایک سال میں ایک سے زائد نمبر نکالنا بہت مشکل امر ہوتا ہے۔لیکن اخلاص اور ان تھک محنت و کوشش اسے آسان بنا دیتی ہے۔ابھی جنوری ۱۹۵۶ء میں تعلیمی نمبر شائع ہوا کہ اپریل مئی ۱۹۵۶ء کو اہم ترین موضوع پر معرکتہ الآراء نمبر شائع کر دیا گیا۔یہ مولانا ہی کا خاصہ ہے اور اس بات سے اس رسالہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق میں جو بات بھی ملتی وہ فورا اسے منظر عام پر لے آتے۔چنانچہ جب حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے سید نا حضرت مسیح موعود کی کتاب ” من الرحمن کی روشنی میں تحقیقات کا باقاعدہ کام کیا تو آپ نے اُسے تمام اہل علم کے سامنے پیش کر دیا۔یہ ایک بہت بڑا کام ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا۔۶۴ صفحات پر مشتمل یہ نمبر بہت ہی قیمتی مضامین پر خلافت راشدہ نمبر ( جولائی ۱۹۵۶ء) مشتمل ہے۔در اصل اس شمارے کے شائع کرنے کے پس منظر میں بہت ساری حکمتیں کام کر رہی تھیں جن میں سے کلیدی اور اساسی وجہ شیعہ سنی تنازعہ تھا اور اسی تنازعہ کے حل کے لئے یہ شمارہ نکالا گیا۔اس شمارے میں جماعت کے سرکردہ بزرگوں اور صف اول کے مضمون نگاروں کے مضامین شامل ہیں۔مضامین کے عنوانات سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔مثلاً۔خلافت راشدہ اور اس کے امتیازات، اسلام میں خلافت کا نظام، آیت استخلاف کی تفسیر اور