حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 446 of 923

حیاتِ خالد — Page 446

حیات خالد 442 ماہنامہ الفرقان میں نکالا۔پھر دسمبر ۱۹۷۴ء میں سیرۃ خاتم المین کے نمبر نظر آتا ہے اور منظوم کلام پر مشتمل دو نمبر خصوصی اہمیت کے حامل نظر آتے ہیں جو دسمبر ۱۹۷۵ء اور فروری ۱۹۷۶ء میں نکالے گئے۔گویا اس ایک موضوع پر نظم و نثر کے کل سات شمارے نکالنے کی حضرت مولانا نے سعادت پائی۔اللہعالی آپ کو اس کا اجر دے۔رسالہ الفرقان کے بنیادی مقاصد اربعہ میں اشاعت قرآنی آئین نمبر ( دسمبر ۱۹۵۳ء) قرآن کریم کو ایک خاص مقام حاصل ہے لہذا ابھی - الفرقان کو جاری ہوئے تقریباً دو سال کا عرصہ ہوا تھا کہ یہ نمبر شائع کیا گیا۔باوجود اس کے کہ ہر شمارے میں قرآنی تعلیمات اس پر اعتراضات کے جوابات اور عظمت وشان قرآن کے بارہ میں کچھ نہ کچھ ضرور شائع ہوتا رہا لیکن یہ نمبر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔جس میں حضرت مولانا موصوف کے علاوہ چوٹی کے مضمون نگاروں نے مضامین لکھے۔جن میں سے اہم نام یہ ہیں۔۱۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ۲۔محترم سید میر محمود احمد صاحب ناصر ۳۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ۴۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ۵ - حضرت مولانا غلام باری سیف صاحب ۶ - محترم مولانا صوفی بشارت الرحمن صاحب۔فہرست مضامین پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے بارے میں قریباً ہر ایک اہم موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے نزول قرآن، جمع و تدوین ، تلاوت کلام پاک، علوم جدیدہ اور قرآن کریم وغیرہ۔گویا اسے قرآن کریم کے بارے میں ایک جامع شمارہ کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ستمبر اکتوبر ۱۹۵۵ء میں بھی قرآنی آئین نمبر شائع کیا گیا۔جماعت اسلامی کے نظریات اور ابتدائی تاریخ یعنی جماعت اسلامی نمبر ( مئی ۱۹۵۵ء) ابتداء تا ۱۹۵۵ء کے نشیب و فراز جاننے کے لئے خاص طور پر یہ نمبر بہت کار آمد ہے اور نہایت اہمیت کا حامل ہے خصوصاً اس نمبر میں محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کا پیش کردہ یہ نظریہ کہ جماعت اسلامی کا قیام مولانا مودودی نے جماعت احمدیہ کے فلسفہ دین اور تنظیم کی نقل کرتے ہوئے کیا ہے۔آنے والی نسلوں کے لئے ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔اس خاص نمبر میں مولانا دوست محمد صاحب شاہد کے مقالہ کے علاوہ بہت سے مضامین شامل ہیں۔خاص طور پر قابل ذکر وہ بیان ہے جو الاخوان المسلمون کے عنوان کے تحت وزیر اعظم مصر جناب جمال عبد الناصر صاحب کا تحریر کردہ شائع کیا گیا ہے جس میں اس تحریک یعنی مصر کی اسلامی جماعت کو ایک دہشت پسند جماعت قرار دیا گیا اور خلاف قانون بھی قرار دیا گیا ہے۔