حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 436 of 923

حیاتِ خالد — Page 436

حیات خالد 432 ماہنامہ الفرقان میں محترم مولوی حکیم خورشید احمد صاحب شاد مرحوم پروفیسر جامعہ احمدیہ کا مضمون بعنوان ” احادیث نبویہ کے حجت شرعی ہونے پر دلائل شائع ہوا۔احادیث نبویہ میں پیش گوئیوں والے حصے پر اچھی خاصی تعداد میں ضروری مضامین بھی الفرقان کے صفحات کی زینت بنے۔مثلاً میں دجال والی حدیث نبوی اور اس کا ظہور اگست ۱۹۷۵ء میں شائع ہوا۔یہ مضمون چوہدری محمد صدیق صاحب کا تحریر کردہ ہے۔حدیث نزول ابن مریم کی تشریح اگست ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا یہ مضمون حضرت مولانا غلام رسول صاحب را نیکی کا تحریر فرمودہ ہے۔حديث مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ۔۔کی تشریح لکھ کر حضرت قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری نے وو وو و جولائی ۱۹۵۵ء کے شمارے کو زینت بخشی۔حدیث لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ۔۔۔کا ثبوت مولاناسید احمد علی شاہ صاحب کا یہ مضمون ستمبر ۱۹۷۲ء کے شمارے کی زینت بنا۔الفرقان کے مدیر کی وسیع نظر نے یہ دیکھ لیا تھا کہ انبیاء علیہم السلام کی زندگی کے انبیاء علیہم السلام مختلف پہلوؤں پر مضامین شائع ہونے کی بہت ضرورت اور اہمیت ہے لہذا الفرقان کے دوسرے ہی شمارے میں جناب شیخ عبدالقادر صاحب کا ایک بلند پایہ تحقیقی مضمون حیات مسیح کے بارے میں ملتا ہے۔گویا ستمبر ۱۹۵۱ء میں الفرقان کے اجراء کے فورا ساتھ اکتو برا۱۹۵ء کے شمارہ سے ہی انبیاء کے بارے میں مضامین کا سلسلہ شروع کرنا ایک نہایت ہی خوش آئند بات نظر آتی ہے۔پھر مارچ ۱۹۵۲ء کے شمارے میں شیخ عبد القادر صاحب مرحوم کا مضمون 'عصمت انبیاء اسلام کا بنیا دی اصل ہے " کے عنوان سے چھپا جس میں خاص طور پر حضرت داؤد علیہ السلام پر بائیل کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی حقیقت اور ان کی مذمت کی گئی ہے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان کی پیدائش، ان کا قرآن کریم میں ذکر اور فرعون موسی بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا“ کے عنوان پر مضامین شائع کئے گئے۔سب سے اہم مضمون بعنوان " حضرت موسیٰ کے قرآنی حالات" الفرقان اپریل ۱۹۶۵ء کے شمارے میں چھپا جو شیخ عبد القادر صاحب کا ہی لکھا ہوا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات، واقعه صلیب، وعظ و نصائح کا دور، ہجرت کشمیر وغیرہم کے بارے میں کثیر تعداد میں مضامین شائع ہوئے۔ایسے انبیاء جن کو ان کے ماننے والوں نے پہلے اوتار اور پھر مافوق الفطرت اور پھر دیوتا اور خدا تیک کے درجات دے دیئے ، اسلام نے ان سب کو خدا کے بزرگ اور برگزیدہ انبیاء ثابت کیا۔چنانچہ