حیاتِ خالد — Page 433
حیات خالد ا۔قرآن نمبر 429 دسمبر ۱۹۵۳ء -۲ قرآنی آئین نمبر ستمبر ۱۹۵۵ء لا نسخ في القرآن نمبر جولائی ۱۹۶۹ء ۴ قرآن نمبر جولائی ۱۹۷۲ء ماہنامہ الفرقان اس لحاظ سے الفرقان نے قرآن کریم کی بھر پور خدمت کی توفیق پائی۔الحمد للہ علی ذلک سيرة النبي علي رسالہ الفرقان میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت جگہ دی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تقریباً ہر ایک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جو بعد میں خلافت کے منصب عالی پر متمکن ہوئے کا ایک بہت ہی خوبصورت مضمون الفرقان مارچ ۱۹۵۹ء کے شمارے میں بعنوان "واقعہ غار حرا اور اس کی اہمیت“ شائع ہوا۔اس کے علاوہ ایک مضمون حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کا الفرقان کے اگست ۱۹۶۲ء کے شمارے میں بعنوان " غار ثور میں عشق ربانی کی ایک جھلک“ شائع ہوا۔ایک اور اہم مضمون مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے لکھا جو مئی ۱۹۷۵ء کے الفرقان میں شائع ہوا اس کا عنوان تھا۔”عہد حاضر اور مسلم دنیا کے متعلق خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی چند پر جلال پیش گوئیاں“۔نثر میں مضامین کے علاوہ مولانا ابوالعطاء صاحب کی دور نگاہی اور ذہانت یہاں تک کام کر رہی تھی کہ آپ نے نظم میں بھی اس مضمون کو الفرقان میں بہت جگہ دی اور باقاعدہ طور پر " نعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر شائع کیا۔اس نمبر میں اُردو فارسی اور عربی کلام شامل کیا گیا۔یہ شمارہ دسمبر ۱۹۷۵ء میں نکالا گیا۔اسلام غیر مسلم لوگوں کی آراء جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں ایک مضمون کی صورت میں جنوری ۱۹۵۷ء میں سیرۃ خیر البشر نمبر میں شائع ہوئیں۔مذاہب عالم کے بارے میں الفرقان کو دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ حسب توفیق مولانا نے سب کا تذکرہ کیا لیکن اسلام جو کہ ایک کلیدی اور بنیادی مذہب ہے اور باقی مذاہب اس کے بارہ میں پیش گوئی کرنے یا اس کی آمد کی خوشخبری دینے اور ذہنوں کو تیار کرنے کے لئے اس دنیا میں قائم کئے گئے اور اسلام ہی ایک مکمل ضابطہ حیات اور کامل مذہب ہے لہذا ضروری تھا کہ مختلف اسلامی اعتقادات، ایمانیات اور اہم امور دینیہ کا تذکرہ مولانا موصوف اپنے اس رسالے میں کرتے۔