حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 420 of 923

حیاتِ خالد — Page 420

حیات خالد 415 پاکستان کی قومی اسمبلی میں یہ نہ کہیں کہ ہم کو بلائے بغیر اور مؤقف سنے بغیر ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا گیا ہے۔بطور اتمام حجت ان کا مؤقف سننا ہمارے لئے ضروری تھا۔اس لئے ان کو بلایا گیا۔جب انہوں نے اپنے بیانات پڑھے تو ان پر تیرہ دن بحث ہوئی۔گیارہ دن میرزا ناصر اور پھر دودن صدرالدین پر جرح ہوئی“۔اس میں شبہ نہیں کہ جب انہوں نے اپنا بیان پڑھا تو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے فائدہ اُٹھایا اور ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے فلاں فرقے پر کفر کا فتوی دیا ہے اور فلاں نے فلاں کی تکفیر کی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو لے کر اسمبلیوں کے ممبران کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ مولویوں کا کام ہی صرف یہی ہے کہ وہ کفر کے فتوے دیتے ہیں۔یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کہ صرف قادیانیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں تاثر دیتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ممبران اسمبلی کا ذہن ہمارے موافق نہیں تھا بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا۔تو ہم بڑے پریشان تھے۔چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہن بھی متاثر ہو چکا تھا اور ہمارے ارکان اسمبلی دینی مزاج سے بھی واقف نہ تھے اور خصوصاً جب اسمبلی ہال میں مرزا ناصر احمد آیا تو قمیض پہنے ہوئے اور شلوار و شیروانی میں ملبوس ، بڑی چھڑی طرہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تو ممبران نے دیکھ کر کہا۔کیا یہ شکل کا فر کی ہے؟ اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا تو درود شریف بھی پڑھتا تھا۔تو ہمارے ممبر مجھے گھور گھور کر دیکھتے تھے کہ قرآن اور رسول کریم کے نام کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہے اور تم اسے کافر کہتے ہو اور دشمن رسول کہتے ہو۔اور پرو پیگنڈے کے لحاظ سے یہ بات مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے تو جب وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تمہیں کیا حق ہے کہ آپ ان کو کافر کہیں ؟ تو ہم اللہ سے دست بدعا تھے کہ اے مقلب القلوب ان کے دلوں کو پھیر دے۔اگر تو نے بھی ہماری امداد نہ فرمائی تو یہ مسئلہ قیام قیامت تک اس مرحلہ میں رہ جائے گا اور حل نہیں ہوگا۔حتی کہ میں اتنا پریشان تھا کہ بعض اوقات مجھے رات کے تین چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی۔(ہفت روزہ لولاک لا کپور - ۲۸/ دسمبر ۱۹۷۵ء صفحه ۱۷-۱۸) یہ طویل اقتباس اپنے مدعا کے لئے واضح ہے ہم نے الفرقان کی گزشتہ اشاعت میں بھی یہ ذکر کر دیا تھا کہ :- مفتی صاحب کے بیان پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ممبران اسمبلی میں تبدیلی کس طرح آئی ؟ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے سنٹی ممبران کی خاطر اور شیعہ نمبر ان کی