حیاتِ خالد — Page 421
حیات خالد 416 پاکستان کی قومی اسمبلی میں خاطر علیحدہ علیحدہ سوال کئے تا کہ ان کے جوابات سن کر وہ جذبات میں آجائیں اور ایسا ہی ہو گیا۔مفتی محمود صاحب کے بیان سے کچھ حقائق کا انکشاف ہو گیا ہے مدیر لولاک کی پریشانی اس نے مدینہ لولاک اس کی اشاعت پر پریشان ہو کر الفرقان کے اداریہ کے متعلق لکھتے ہیں :- مولانا مفتی محمود مدظلہ کی اولاک ۲۸؍ دسمبر میں دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں کی گئی ایک تقریر کا ایک حوالہ سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے چھاپا گیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی کے ممبران مرزا ناصر احمد صاحب کے بیان سے بہت متاثر تھے اور اس کی وجہ سے مفتی محمود صاحب اور ان کے ساتھی بہت پریشان تھے۔( لولاک ۸ فروری ۱۹۷۶ء) قارئین کرام! مفتی محمود صاحب کی تقریر کا طویل اور مسلسل اقتباس آپ کے سامنے ہے۔اس سے یہ دونوں باتیں کہ (i) ممبران اسمبلی حضرت میرزا ناصر احمد صاحب کے بیان سے بہت متاثر تھے“۔(ii) مفتی محمود اور ان کے ساتھی بہت پریشان تھے۔آفتاب نیمروز کی طرح ثابت ہیں۔اس کیلئے کسی کوشش کی کیا ضرورت؟ مدیر لولاک کو ہم صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ حقائق کا اقرار کرنے کی بھی عادت ڈالیں۔باقی رہا فیصلہ سے ستمبر۔تو اس کے اسباب و موجبات پر جب آزادانہ بحث کا موقعہ ہوگا تو دوسرے بہت سے حقائق پر سے بھی پردہ اٹھایا جائے گا۔وبالله التوفيق (ماہنامہ الفرقان فروری ۱۹۷۶ء صفحه ۴-۵) ظاہر ہے کہ یہ صورت حال نفس ترمیم کی حیثیت کو بہت گرا دیتی ہے ایسی عجلت میں پاس کی جانے والی بنیادی خامیوں پر مشتمل قرار داد کیسے اساس عدل و انصاف ٹھہرائی جا سکتی ہے؟ بہر حال ہم اپنی طرف سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہتے یہ دو اہم دستاویزی بیان قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ - (اداریہ ماہنامہ الفرقان جنوری ۱۹۷۶ ء صفحه ۲ تا ۴ )