حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 419 of 923

حیاتِ خالد — Page 419

حیات خالد 414 پاکستان کی قومی اسمبلی میں جائے۔مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری اقدام کے لئے ے ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی مگر ایسے حالات بھی پیدا کئے جن میں آخری وقت تک کوئی بات فیصلہ کن نظر نہ آتی تھی۔قومی اسمبلی میں کئی روز سے قادیانی مسئلے کے سلسلے میں خفیہ کارروائی ہو رہی تھی اور قادیانی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا تھا۔یہ بحث ۶ رستمبر تک چلتی رہی اور کچھ طے نہ پایا کہ دستوری ترمیم کے الفاظ کیا ہوں گے۔۷ ستمبر کو چار بجے شام ایک غیر سرکاری مسودے پر مختلف پارلیمانی قائدین کے مابین گفت و شنید ہوتی رہی۔ہوتا یہ چاہیئے تھا کہ خفیہ کارروائی کے نتیجہ میں ایک بل تیار ہوتا اور اس پر قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں نور ہوتا اور اس کے بعد اسے بحث و تمحیص کے لئے ایوان میں پیش کر دیا جاتا۔جناب بھٹو اس پورے طریق کار کو ختم کر دینے کے درپے تھے تا کہ آئندہ کے لئے ایک مثال قائم ہو جائے۔چنانچہ وہ آخری وقت تک طرح دیتے رہے اور پانچ بجے کے قریب مل پڑھ کر سنایا گیا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی رات سینٹ کا اجلاس طلب ہوا اور اس ایوان میں بھی کچھ زیادہ وقت نہ لگا۔اس رواروی اور گہما گہمی میں کچھ بھی غور وفکر نہ ہوا اور دوسری آئینی ترمیم میں چند بنیادی خامیاں رہ گئیں جن پر اب صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے۔(اُردو ڈائجسٹ لاہور دسمبر ۱۹۷۵ء صفحہ ۵۷) قومی اسمبلی کے فیصلہ کے سلسلہ میں مفتی محمود صاحب کا بیان مدیر لولاک لائلپور کی پریشانی الفرقان کے گزشتہ شمارہ میں پاکستان قومی اسمبلی کے فیصلہ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے سلسلہ میں جناب مفتی محمود صاحب کے بیان کا طویل اقتباس بھی شائع کیا گیا تھا۔مفتی محمود صاحب نے کراچی میں تقریر کرتے ہوئے کہا :- اسمبلی میں قرار داد پیش ہوئی اور اس پر بحث کیلئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دے دی گئی۔کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ مرزائیوں کی دونوں جماعتیں خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی۔ان کو اسمبلی میں بلایا جائے اور ان کا موقف سنا جائے تاکہ کل اگر ان کے خلاف فیصلہ کر دیا گیا تو وہ دنیا میں اور بیرونی ممالک میں