حیاتِ خالد — Page 41
حیات خالد 44 ولادت، بچپن اور تعلیم شیر محمد صاحب کو بتایا کہ اس نے بھی اصرار سے آج روزہ رکھا ہے اور یہ اس کا پہلا روزہ ہے تو انہوں نے جھٹ جیب سے ایک پیسہ (۱/۶۴ روپیہ ) نکالا اور پیار کرتے ہوئے وہ ایک پیسہ مجھے بطور انعام دیا۔بچپن کی بات ہے اس پیسہ کو لے کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔یہ ایک پیسہ میرے لئے زندگی بھر نا قابل فراموش رہا ہے۔اس جگہ مناسب ہے کہ میاں شیر محمد صاحب میاں شیر محمد صاحب ٹانگہ والا کا ذکر خیر مرحوم کا کچھ ذکر خیر ہوجائے۔یہ ہی ٹانگہ والے ہو بزرگ ہیں جن کا ذکر سیدنا حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ کے خطبات میں موجود ہے۔وہ ایک ان پڑھ احمدی تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور آپ کی باتیں سنی تھیں۔ان میں احمدیت کیلئے عشق تھا۔ان کی زندگی دین العجائز کی زندگی تھی۔وہ بنگہ اور نواں شہر کے درمیان بالعموم ٹانگہ چلاتے تھے۔قادیان سے اخبار ”الحکم وغیرہ ان کے نام جاری تھے۔وہ اخبار ساتھ رکھ لیتے تھے اور سواریوں میں سے پڑھے ہوئے آدمی کو راستہ میں اخبار دے کر کہتے کہ مہربانی کر کے اسے پڑھ کر مجھے سنا دیں۔خود ٹانگہ چلاتے جاتے اور وہ صاحب اخبار پڑھ کر سناتے جاتے۔وہ خود بھی سنتے اور ساتھ سواریوں کو بھی پیغام حق پہنچ جاتا اور کئی لوگ اخبار طلب کر کے اپنے گاؤں میں لے جاتے۔ان کی اس پر حکمت تبلیغ سے کئی لوگوں کو احمدیت کے قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ حضرت میاں شیر محمد صاحب میرے والد صاحب مرحوم کے خاص دوستوں میں سے تھے۔انہوں نے کافی عمر پائی تھی۔مجھے قادیان میں تعلیم کیلئے آنے کے بعد بھی ان سے ملنے کا موقع ملتا رہا ہے۔بڑی محبت اور پیار سے ملتے تھے۔رضی اللہ عنہ (الفرقان دسمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۴۴-۴۵) بچپن کا ایک اور واقعہ حضرت مولا نا اپنے بچپن کا ایک اور واقعہ لکھتے ہیں :- " میرا ایک چھوٹا بھائی عبد الغفور نامی فوت ہو گیا۔بالکل بچہ تھا۔شوریدہ سر غیر احمدیوں نے قبرستان پہنچ کر کھو دی ہوئی قبر میں بچہ دفن ہونے سے روک دیا۔والد صاحب مرحوم نے نعش اٹھالی اور کہا کہ بہت اچھا میں اپنے بچے کو اپنے گھر کے صحن ہی میں دفن کر دوں گا۔اتنے میں جماعت کر یام کے ت سے دوست بھی پہنچ گئے اور ہمارے گاؤں کے نمبردار چوہدری اللہ داد خان صاحب نے شور بہت