حیاتِ خالد — Page 40
حیات خالد 43 ولادت، بچپن اور تعلیم گزرے تو میں تمہیں ساتھ لے کر حضور رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، نذرانہ پیش کیا ، اپنی خواہش کا اظہار کیا اور حضور سے درخواست کی کہ میرے بیٹے کے سر پر دست شفقت پھیر کر دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔چنانچہ حضور نے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ حضرت امصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی یہ دعا اور آپ کا یہ شفقت بھرا ہاتھ۔میرے خاندان کیلئے بہت با برکت ثابت ہوا ہے۔ان برکات کو ہمیشہ میں نے محسوس کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اپنے فضلوں سے نوازتا رہے۔آمین۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ ء صفحہ ۴۱) حضرت مولانا ایک دیندار گھرانے میں پرورش پا رہے تھے گھر میں قال اللہ اور قال پہلا روزہ الرسول کا چرچا تھا، عبادات زندگی کی روح اور ملز تھیں ایسے پاکیزہ دینی ماحول میں چھوٹے بچوں کو بھی بچپن ہی سے عبادات کی چاٹ پڑ جاتی ہے۔حضرت مولانا اپنے بچپن کا ایک اور واقعہ " حياة الی العطاء۔میری زندگی، چند منتشر یا دیں" کی قسط نمبر 1 میں یوں درج فرماتے ہیں۔اولین احمدیوں میں خاص اخوت اور پیار موجود تھا۔ان میں صحابہ رضی اللہ عنھم جیسی مواخاق تھی۔گاؤں میں عام چھوٹے بچے بھی شوق سے روزہ رکھتے تھے اور مسائل کی ناواقفیت کی وجہ سے ماں باپ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آج بھی یہی حال ہے کبھی کبھی بچوں کا ایک دو روزے رکھ لینا علیحدہ امر ہے مگر بالالتزام بچوں کا روزے رکھنا یا ان سے روزے رکھوانا اسلامی شریعت کے منشاء کے مطابق نہیں۔میں نے چھوٹی عمر سے روزے رکھے ہیں۔ابتداء میں چند اور بعد ازاں پورے روزے رکھنے کی سعادت ملتی رہی ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نے بچپن میں آٹھ سال کی عمر میں پہلا روزہ رکھا تھا تو گرمی کا موسم تھا۔اس سال میں نے غالباً ایک ہی روزہ رکھا تھا۔جب افطاری کا وقت ہوا تو بہت بھوک اور پیاس لگ رہی تھی۔افطاری سے عین پہلے بنگہ کے پرانے احمدی میاں شیر محمد صاحب مرحوم ٹانگہ والے ہمارے گھر پہنچے۔ان کے آنے سے میرے والد صاحب مرحوم کو بہت خوشی ہوئی کہ آج افطاری کے وقت کم از کم ہم دو احمدی مرد تو ہوں گے اور مل کر نمازیں پڑھیں گے۔اس زمانہ میں احمدیوں کے ایک دوسرے کومل جانے سے عید کا سا سماں پیدا ہو جاتا تھا۔چنانچہ افطاری کیلئے خربوزہ وغیرہ کے بیجوں کی ٹھنڈی سردائی تیار ہوئی۔جب میرے والد صاحب مرحوم نے مجھے بھی افطاری کیلئے بلایا اور میاں