حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 404 of 923

حیاتِ خالد — Page 404

حیات خالد 397 اہم شخصیات سے ملاقاتیں صاحب اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :- حضرت ابا جان کی معاند احمدیت جناب شورش کا شمیری ایڈیٹر ہفت روزہ چٹان سے ایک دلچسپ ملاقات مجھے اچھی طرح یاد ہے۔میں بھی اس موقعہ پر حضرت ابا جان کے ساتھ تھا۔الفرقان کے لئے کاغذ کی خریداری کے سلسلہ میں ہم دونوں لاہور گئے۔مکرم ملک عبد اللطیف صاحب ستکو ہی کی دوکان پر پہنچے۔مکرم ستکو ہی صاحب نے جو حضرت ابا جان کے شاگرد تھے حسب معمول بہت تپاک سے استقبال کیا اور فوراً چائے وغیرہ کا انتظام کیا۔باتیں ہو رہی تھیں کہ اچانک کہنے لگے کہ مولانا! آج آپ کی ملاقات شورش سے کرواتے ہیں جن سے آپ کی نوک جھونک رسالہ میں جاری رہتی ہے۔دیکھا تو شورش کاشمیری صاحب لمبا کرتا اور پاجامہ پہنے، تنگے سر ، پہلوانوں کے انداز میں چلتے ہوئے آ رہے تھے۔حسن اتفاق کہ وہ بھی کسی کام کے سلسلہ میں ملک صاحب کی دکان کی طرف ہی آ رہے تھے۔باہم تعارف ہوا اور چند ابتدائی باتوں کے بعد ابا جان نے وہ مسئلہ اٹھایا جس کا گذشتہ دنوں ہفت روزہ چٹان میں بڑا چرچا رہا تھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب مدیر چٹان نے جماعت کے خلاف یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ ان کا کلمہ نیا ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر Africa Speaks کتاب سے نائیجیریا کے ایک گاؤں کی احمد یہ مسجد کی پیشانی پر لکھے ہوئے کلمہ میں لفظ محمد کو احمد میں تبدیل کر کے بڑے طمطراق سے صفحہ اول پر شائع کیا تھا اور یہ عنوان جمایا تھا کہ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔الفرقان میں تصویر کا صحیح عکس شائع کرنے کے علاوہ اس الزام کا مدلل اور مسبوط جواب شائع ہو چکا تھا۔اس حوالہ سے حضرت ابا جان نے ان سے پوچھا کہ شورش صاحب ! خدا لگتی کہیں کہ کیا اب بھی آپ واقعی یہ لکھتے ہیں کہ احمدیوں کا کلمہ نیا ہے؟ اس پر شورش کا شمیری صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ چھوڑئیے مولانا ان باتوں کو۔آخر ہم نے بھی تو اپنا اخبار بیچنا ہوتا ہے! اور ساتھ ہی کہا کہ یہ بات Off the record ہے۔آپ نے اسے شائع کیا تو میں اس کی تردید کر دوں گا۔بد دیانتی ، جھوٹ اور اس پر یہ ڈھٹائی دیکھ کر ہم سب حیران رہ گئے۔کذب و افتراء کے گند میں پڑ کر انسان کہاں سے کہا چلا جاتا ہے اس کا ایک افسوسناک منظر ہم نے دیکھا اور قرآن مجید کی اس آیت کا مفہوم خوب واضح ہوا کہ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعہ: ۸۳) خدا کرے کہ ہمارے مخالف علماء خدا خوفی سے کام لیں اور جھوٹ کو ذریعہ آمد بنانے سے اجتناب کی توفیق پائیں۔