حیاتِ خالد — Page 403
حیات خالد 396 اہم شخصیات سے ملاقاتیں امتیاز بڑا واضح ہوا کرتا تھا۔پھر ان مسلمانوں میں سے ایک کو خاص طور پر منتخب کر لیا جو ان کی نظر میں بہتر مسلمان دکھائی دیتا تھا۔اسی دوران گاڑی چلنے لگی تو شورش صاحب نے اس شخص کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس سے مصافحہ کرتے ہوئے پولیس سے نظر بچا کر نقدی اور گھڑی اس کے حوالہ کردی کہ اس کے کام آ جائے۔اس سے پیشتر کہ کچھ کہنا ممکن ہوتا گاڑی روانہ ہوگئی۔اس وقت دونوں کو ایک دوسرے کا اتا پتہ کچھ معلوم نہ تھا۔بہر حال مقدمہ چلا اور جب کئی ماہ کی جیل کاٹنے اور پھر رہائی کے بعد شورش صاحب اپنے گھر کے بیرونی صحن میں تھے تو ایک بظاہر نا معلوم صاحب نے آ کر انہیں سلام کیا اور ایک رومال میں لپٹی ہوئی کوئی چیز انہیں پیش کر کے کہا کہ جناب اپنی امانت واپس لے لیجئے۔شورش صاحب نے کہا میاں! میں تو آپ کو جانتا تک نہیں پھر اس امانت کی واپسی کیسی ؟ چنانچہ نو وارد نے انہیں سارا واقعہ یاد دلایا اور شورش صاحب کو بھی یاد آ گیا تو کہنے لگے میں نے تو آپ کو ایک نیک دل مسلمان بھائی سمجھ کر تحفہ دیا تھا نہ کہ بطور امانت واپسی کیلئے۔نو دارد کہنے لگا یہ بات آپ کے دل میں ہی ہوگی۔گاڑی روانہ ہونے کی وجہ سے آپ کچھ نہ کہہ سکے یوں بھی آپ پولیس کی حراست میں تھے۔بہر حال میں نے تو اسے امانت سمجھ کر وصول کیا ، اسے سنبھال کر رکھا اور آج واپس کرنے آیا ہوں۔شورش صاحب نے بتایا کہ وہ نووارد کی یہ داستان سن کر بہت حیران ہوئے کہ اس زمانہ میں بھی کوئی ایسا با ضمیر اور ذمہ دار مسلمان ہو سکتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے نو وارد سے مزید دریافت کیا کہ اسے آپ کی رہائی اور قیام گاہ کا پتہ کیسے چلا؟ نو وارد نے انہیں بتایا کہ وہ اخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا ہے اور اسے اخبارات سے ہی پتہ چلا کہ انہیں اتنی قید ہوئی ہے اور پھر اب رہا ہوئے ہیں۔چنانچہ وہ ادھر اُدھر سے پتہ کرتے کراتے شورش صاحب کے گھر امانت لے کر حاضر ہو گیا۔شورش صاحب نے والد ماجد کو بتایا کہ وہ یہ سب کچھ نو وارد سے جان کر مزید حیران ہوئے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی امانت و دیانت کی ایسی اعلیٰ مثال مل سکتی ہے۔چنانچہ شورش صاحب نے بے اختیار ہو کر نو وارد سے پوچھا کہ جناب آپ ہیں کون ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں احمدی ہوں۔شورش صاحب سارا واقعہ سنا کر کہنے لگے کہ مولانا ! بس آپ لوگوں کی اسی بات کا جواب ہمارے پاس نہیں۔مكرم عطاء الحجیب صاحب راشد نے بھی حضرت مولانا کی جناب شورش کا شمیری سے ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ممکن ہے کہ یہ اسی ملاقات کا موقع ہو یا اسی طرز پر دوسری بار ملاقات ہوئی ہو۔راشد