حیاتِ خالد — Page 402
حیات خالد الفرقان 395 اہم شخصیات سے ملاقاتیں جن حالات میں سید میجر حبیب اللہ شاہ صاحب مرحوم نے آغا شورش سے یہ مشفقانہ سلوک کیا ان پر نظر کرنے سے مرحوم شاہ صاحب کی عظمت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔(الفرقان ربوه نومبر ۱۹۷۵ء صفحه ۲۸-۲۹) شورش کا شمیری سے اس ملاقات کی کچھ اور تفصیل جو حضرت مولانا نے زبانی اپنے صاحبزادے مكرم عطاء الکریم صاحب شاہد کوسنائی کچھ یوں ہے۔ماہنامہ الفرقان کیلئے کا غذ خرید نے والد ماجد ایک مرتبہ مکرم ملک عبد اللطیف صاحب کوہی کی فرم پیپر کارنر ، گنپت روڈ لاہور گئے اور واپسی پر ایک عجیب ایمان افروز واقعہ سنایا۔ہوا یوں کہ وہاں ہفت روزہ چٹان کے مدیر جناب شورش کا شمیری بھی اپنے کام کے سلسلہ میں آئے تو مکرم مسکو ہی صاحب نے والد ماجد کا شورش صاحب سے تعارف اپنے استاد اور مدیر الفرقان کے طور پر کرایا نیز شورش صاحب کو بھی والد ماجد سے متعارف کرایا۔گو الفرقان اور چٹان ایک دوسرے کے مضامین اور اداریوں پر تبصرہ کرتے رہتے تھے اور اس پر سالہا سال گذر چکے تھے مگر دونوں رسائل کے مدیران کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔جناب شورش نے کہا کہ مولانا ! عرصہ سے آپ سے ملاقات کا اشتیاق تھا جو آج پورا ہوا اور خوشی کا اظہار کیا۔باتیں چل نکلیں تو شورش صاحب کہنے لگے مولا نا ! آپ لوگوں (یعنی احمدیوں) کی ہر بات کا جواب ہمارے پاس ہے سوائے ایک بات کے۔والد ماجد نے پوچھا کہ بھلا وہ کونسی ایسی بات ہے جس کا جواب آپ جیسے مدیر اور مقرر کے پاس نہ ہو؟ اس پر شورش صاحب نے ایک واقعہ سنایا کہ قیام پاکستان سے پہلے انہوں نے ایک سیاسی جلسہ میں انگریز حکومت کے خلاف دھواں دھار تقریر کی چنانچہ توقع کے عین مطابق جلسہ کے فورا بعد پولیس نے آپ کو گرفتار کر لیا اور جب ریل پر سوار کرا کے کسی دوسرے شہر لے جانے لگے تو عجب منظر دیکھنے میں آیا کہ گاڑی روانہ ہونے والی ہے اور شورش صاحب کو ہتھکڑی لگائے پولیس کے سپاہی گاڑی کے ڈبہ کے دروازہ میں کھڑے ہیں۔ریلوے پلیٹ فارم پر موجود بہت سے شہری بھی انہیں دیکھنے کیلئے جمع ہو گئے۔شورش صاحب نے والد ماجد کو بتایا کہ اس مرحلہ پر انہیں خیال آیا کہ پولیس نہ جانے انہیں کہاں لے جائے اور پھر ان کی جیب میں موجود نقدی اور کلائی پر بندھی گھڑی پولیس کے ہاتھوں ضائع ہونے کا امکان ہے۔چنانچہ بہتر ہوگا اگر یہ پولیس کی بجائے کسی ضرورتمند کے کام آ جائے۔چنانچہ انہوں نے قریب جمع لوگوں کو غور سے یہ دیکھنا شروع کیا کہ ان میں سے کون کون حلیہ وضع قطع اور لباس سے مسلمان نظر آتا ہے۔اس زمانہ میں یہ