حیاتِ خالد — Page 39
حیات خالد 42 ولادت انگین اور تعلیم نکال دیا ہوا تھا اور ہم دوسری سمت میں ایک عارضی مکان میں رہتے تھے۔محلہ کے سب لوگ تعزیہ کی مہندی دیکھنے جا رہے تھے۔سب اپنے اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے جارہے تھے۔مگر میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ گھر میں موجود تھے۔نہ خود گئے اور نہ مجھے لے گئے۔میں نے دوسرے بچوں کو دیکھ کر اپنی طفلانہ ضد کا اظہار کیا اور شور کرنے لگا کہ مجھے بھی تعزیہ دیکھنے کیلئے لے جائیں۔کسی کا باپ جا رہا ہے اور کسی کی ماں جارہی ہے مگر مجھے کوئی نہیں لے جا رہا۔حضرت والد صاحب مرحوم نے نہایت پیار سے مجھے سمجھایا کہ ہم احمدی ہیں اور احمدی لوگ اس قسم کے امور میں شامل نہیں ہوا کرتے۔اس وقت تو میں اس بات کو بالکل نہ سمجھ سکا مگر ایک نقش میرے دل پر بیٹھ گیا کہ ہم دوسرے لوگوں سے کچھ امتیاز رکھتے ہیں اور ہم پر حقیقی اسلام کو قائم کرنے کی زیادہ ذمہ داری ہے۔۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۸ء صفحه ۴۲ ۴۳ ) حضرت مولانا نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں "حیاۃ الی العطاء" کی دوسری تعلیم کا آغاز قبل میں لکھا ہے۔” میرے والدین اپنی غربت کے باوجود احمدیت کے نور سے منور تھے۔وہ مجھے احمدیت کا ایک سپاہی دیکھنا چاہتے تھے۔ابھی انہوں نے مجھے با قاعدہ مدرسہ احمدیہ میں ( قادیان میں ) داخل نہ کیا تھا کہ ایک دن میں خود بخود کھیلنے کے طور پر اپنے نو عمر چا رحمت اللہ صاحب اور ان کے ہم جماعت طلبہ کے ساتھ پاس کے گاؤں موسیٰ پور کے پرائمری مدرسہ میں چلا گیا۔والدین کھانا لے کر تلاش کرتے ہوئے مدرسہ پہنچے۔بعد ازاں تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد قادیان دارالامان میں پڑھنے کی سکیم تھی۔موسی پور سے آپ نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔(الفرقان نومبر ۱۹۶۷ ء صفحه ۴۱) مولانا اپنے بچپن کا ایک اور یادگار واقعہ یوں تحریر حضرت فضل عمر کا دست شفقت فرماتے ہیں :- وو میرے والد صاحب مرحوم نے مجھےبتایا کہ غائب ۱۹۰۹ء میں سید نا حضرت خلیفۃ المسح الاول کے عہد خلافت میں سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ٹھر گڑھ ضلع ہوشیار پور تشریف لے گئے۔واپسی پر کر یام سے بنگہ کیلئے گھوڑوں پر سوار ہمارے گاؤں کر یہا میں سے