حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 380 of 923

حیاتِ خالد — Page 380

حیات خالد 372 ممالک بیرون کے اسفار پہنچ کر وہاں قیام فرمایا۔۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کو وہاں ہی وفات پاگئے۔انا للہ و انا اليه راجعون بہت برگزیدہ انسان تھے۔رَفَعَ اللَّهُ دَرَجَاتِهِ فِى الْجَنَّةِ میں جب اس سال ایران کیلئے روانہ ہونے لگا تو حضرت مولوی محمد الدین صاحب صدر، صدر انجمن احمدیہ نے بڑی محبت سے فرمایا کہ شہزادہ عبدالمجید صاحب کی قبر پر دعا کیلئے ضرور جائیں۔میں نے مرحوم شہزادہ صاحب کی قبر تلاش کی مگر اس کا پتہ نہ مل سکا۔بتایا گیا کہ اس علاقہ میں وہ قبریں تھیں بعد ازاں ان قبروں کو برابر کر کے اس پر عمارات بن گئی ہیں جس سے صدمہ ہوا۔بہر حال حضرت شہزادہ صاحب مرحوم کی بلندی درجات کیلئے دعا کی۔سرزمین ایران میں احمدیت کی یہ ایک مقدس امانت ہے۔میری مستقل رہائش تو عزیزم میاں محمد افضل صاحب کے احباب تہران کا مخلصانہ سلوک ہاں تھی۔ان کے گھر والے ہی کھانے پینے کا پورا بلکہ ضرورت سے زیادہ اہتمام کرتے تھے۔جَزَاهُمُ اللهُ خَيْرًا۔دوسرے احباب نے بھی وقت میں گنجائش کے لحاظ سے چائے ، ناشتے اور کھانے کا اہتمام فرمایا۔ایسے مواقع پر متعد د دوست جمع ہوتے تھے اور کافی مسائل پر بھی گفتگو ہوتی تھی۔ان احباب میں اصل میزبان کے علاوہ نثار احمد صاحب، چوہدری نعمت علی صاحب ، چوہدری عزیز احمد صاحب، چوہدری منیر احمد خان صاحب، ملک مشتاق احمد صاحب، مکرم عبدالخالق صاحب بٹ، قریشی داؤ د احمد صاحب، سید عاشق حسین صاحب ، شاہد مسعود، رشید احمد خان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر بخشے۔آمین محترمہ صدر صاحبه لجنہ اماء الله مرکز یہ حضرت سیدہ ام متین صاحبه زيد لجنہ اماءاللہ سے خطاب مَجدُهَا نے وہاں ایک خط میں لکھا تھا کہ ابو العطاء صاحب کے آنے پر کوئی وعظ بھی کرالیں چنانچہ محترمہ پروین صاحبہ صدر لجنہ تہران کے زیر انتظام وہاں پر خواتین کا ایک اجتماع ہوا اور خاکسار نے قرآنی رکوع إِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ کی تفسیر کرتے ہوئے بہنوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا اور انہیں مرکز کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔یوں تو ایران مجموعی طور پر بہت عمدہ ملک ہے۔قدرت نے اسے بندر پہلوی کی تفریحی سیر نہایت قیمتی مواہب سے نوازا ہے اور ملک کی ہیئت حاکمہ نے بھی اس وقت ملک کی بہتری کیلئے قابل تعریف کام کیا ہے۔شہروں کے پارک ہوں، بہتے پانیوں پر بلند درختوں کے سایہ میں گرج یا آب علی وغیرہ کی مشہور سیر گاہیں ہوں۔شمیران کی پہاڑی اور اس کے چشمے